ارشد شریف کا لیپ ٹاپ: کیا انکوائری ٹیم مراد سعید کے ساتھ رانا ثناء اللہ کو طلب کریں گے؟
سینئر صحافی ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات میں نیا موڑ آگیا ہے کیونکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول صحافی کا لیپ ٹاپ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے پاس ہے ، ان کے دعوے نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات میں نیا موڑ آگیا ہے ، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ارشد شریف کا لیپ ٹاپ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید کے پاس ہے ، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے دعوے نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے دعوؤں پر سوالات اٹھادیئے ہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی جانب سے رہنما تحریک انصاف مراد سعید کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرحوم سینئر صحافی ارشد شریف کا ایپل کا لیپ ٹاپ آپ کے پاس ہے۔ لہٰذا آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ مقتول ارشد شریف کا لیپ ٹاپ فراہم کیا جائے ، لیپ ٹاپ سے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو کینیا میں سینئر صحافی کے قتل سے متعلق حقائق کا پتہ لگانے میں مدد ملے گی۔”
یہ بھی پڑھیے
قوموں کی زندگی میں انقلاب صرف تعلیم سے ہی ممکن ہے، ڈپٹی کمشنر شیرانی
فوج کو غیرسیاسی کرنے کا فیصلہ جمہوری کلچر میں نئی روح پھونکے گا، آرمی چیف
گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف مراد سعید نے مطالبہ کیا کہ صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے کینیا اور دبئی جانے والی تحقیقاتی ٹیم ثبوت عوام کے سامنے پیش کرے۔
مراد سعید کا کہنا تھا کہ ارشد کا لیپ ٹاپ ان کے پاس نہیں تھا اور جو لوگ تحقیقات کے لیے گئے وہ "جو ثبوت لائے ہیں وہ قوم کے سامنے رکھیں”۔
اتوار کو پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انہیں ایف آئی اے کی جانب سے ابھی تک کوئی نوٹس نہیں ملا اور جو ٹیم تحقیقات کے لیے گئی اس کے پاس تمام آلات اور شواہد موجود ہونے چاہئیں کیونکہ وہ لوگ تحقیقات کے لیے کینیا اور دبئی گئے تھے۔
مراد سعید کی آج اسلام آباد میں مکمل پریس کانفرنس (1/3)@MuradSaeedPTI pic.twitter.com/yxugapn2PJ
— PTI (@PTIofficial) November 27, 2022
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا مقتول ارشد شریف نے اپنی شہادت سے پہلے ہی بتایا تھا کہ کون لوگ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ارشد شریف کے پاس متحدہ عرب امارات کا ویزا تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کی وجہ سے ارشد شریف کو یو اے ای چھوڑنا پڑا؟
مراد سعید کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ارشد شریف کی نماز جنازہ سے قبل نیوز کانفرنس کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد کے خلاف 16 جعلی ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں تھیں۔
مراد سعید کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں تاکہ ان کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جاسکے ، کیونکہ نہ تو ارشد شریف کے اہل خانہ اور نہ ہی ہمیں حکومت کی موجودہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر کوئی اعتماد ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تمام کہانیاں جھوٹ پر مبنی ہیں۔‘‘
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے نتائج وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے ان دعوؤں کی مکمل طور پر نفی کرتے ہیں جس میں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ ارشد شریف کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون اب ٹریس نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ کاروں نے مقتول صحافی کے لیپ ٹاپ کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے نئے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ، جو رانا ثناء اللہ کے دعوؤں سے متصادم ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا جھوٹے دعوے کرنے پر کمیٹی وزیر داخلہ کو بھی طلب کرے گی۔؟









