فواد چوہدری اور ڈونلڈ بلوم ملاقات: کیا کھچڑی پک رہی ہے؟

ذرائع کے رابطے کرنے پر رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری اور امریکی سفارتخانے کے اہلکار ملاقات کی تفصیلات سامنے لانے سے گریزاں ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری نے منگل کے روز اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی، تاہم پی ٹی آئی ملاقات کی تفصیلات سامنے لانے گریزاں ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں تحریک انصاف اور امریکا کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو کم کرنے پر تبادلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ شام 3 سے 4 بجے کے درمیان ہونے والی ایک گھنٹہ طویل ملاقات میں دونوں فریقوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر یاسمین راشد کا مولانا فضل الرحمان کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے جاتے ہی سینیٹر اعظم تارڑ کی وزارت قانون میں واپسی

واضح رہے کہ رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کی رواں ماہ امریکی سفارت کار سے یہ دوسری ملاقات تھی۔ پہلی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنما نے ابتدا میں ایسی ملاقات کی تردید کی تھی تاہم بعدازاں ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کا اعتراف کرلیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر نے گذشتہ روز پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں تھیں تاہم ان ملاقاتوں میں ہونے والے بات چیت کی تفصیلات میڈیا کو جاری نہیں کی گئیں۔

مختلف میڈیا ہاؤسز کے سینئر صحافیوں کی جانب سے جب امریکی سفارتخانے سے رابطہ کیا تو انہوں ملاقات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

تاہم رہنما تحریک انصاف اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ ایک معمول کی ملاقات تھی۔

یہ امر اہم ہے کہ پی ٹی آئی، جس نے امریکہ پر پاکستانی سیاست میں مداخلت اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگایا تھا، اب اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور واشنگٹن کے ساتھ نئے سرے سے اپنے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو 9 اپریل کو اس وقت کی اپوزیشن نے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے فارغ کردیا تھا۔ اس تبدیلی کی بنا پر پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کردیا تھا۔

وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹائےجانے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بیانیہ بنایا تھا کہ ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے امریکی  انتظامیہ کے ساتھ ملکر سازش کی تھی۔ تاہم دونوں ہی ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں کے ماہ کے شروع میں فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا تھا کہ وہ سازش کے بیانیے کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں اب وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو امریکا کے ساتھ نئے سرے سے اپنے تعلقات کو استوار کریں گے۔

متعلقہ تحاریر