فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے خواجہ سراؤں سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کردی

فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نےایک انٹرویو میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ ٹرانس جینڈر ایکٹ درحقیقت انٹرسیکس ایکٹ تھا جو ہائی جیک ہوگیا۔ یہ ’می ٹو‘ مہم والی صورتحال ہے،جماعت اسلامی کے ساتھ ملکر اس حوالے سے آگاہی گراہم کررہی ہیں۔

معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے خواجہ سراؤں سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کردی ہے۔ ماریہ بی نے کہا کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ درحقیقت انٹرسیکس ایکٹ تھا جو ہائی جیک ہوگیا۔ یہ ’می ٹو‘ مہم والی صورتحال ہے۔

معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے آئے دن خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں ،اس بار انہوں نے ٹرانسجنیڈر بل کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم اب انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

فلم جوائے لینڈ پر پابندی کا مطالبہ کرنے والی ماریہ بی کا دہرا معیار بے نقاب

فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نےایک انٹرویو میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں ایک انٹرسیکس کمیونٹی ہے، جسے خواجہ سرا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواہش ہے 70 سال بعد اگرآج انٹرسیکس کمیونٹی کیلئے کوئی رائٹس کی بات کررہا ہے تو انہیں پلیزحقوق دے دیں لیکن یہ ایکٹ پڑھ کر اندازہوا کہ یہ تو کوئی اور ہی ایجنڈا ہے۔

ماریہ بی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد اورراجہ ضیاء الحق کے ساتھ مل کر آگہی پھیلا رہی ہیں کہ پہلے انٹرسیکس کمیونٹی کی بات کریں، انہیں حقوق دیں پھرٹرانس جینڈرکی بات بھی کرلیں گے۔

ٹرانس جینڈر کون ہوتے ہیں، انہوں نے کہاکہ "ٹرانس جینڈرز ایک بار نارمل لڑکیاں اور لڑکے ہوتے ہیں جو سمجھتے تھے کہ ان میں مخالف جنس کی خصوصیات ہیں اور انہوں نے انہیں اس جنس کا قرار دیا ۔

ٹرانس جینڈرایکٹ کی مخالفت کر نے والی فیشن ڈیزائنرماریہ بی نے ایک بار پھراس ایکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل ایکٹ ہائی جیک کرلیا گیا۔

 جب ہم نے اس ٹرانس جینڈر ایکٹ کو پڑھا تو ہمیں احساس ہوا کہ یہ بل بالکل بھی انٹرسیکس کمیونٹی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ کسی اور کو فروغ دے رہا ہے۔

متعلقہ تحاریر