عمران خان کی سیکیورٹی کا معاملہ؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قوائد و ضوابط طلب کرلیے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر وزارت داخلہ سے سابق وزرائے اعظم کی سکیورٹی سے متعلق قواعد و ضوابط طلب کرلیے، اٹارنی جنرل نے بتایا دفعہ 17 کے تحت سابق وزیراعظم عمران خان کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سابق وزیراعظم عمرا خان کی درخواست پر وزارت داخلہ سے سابق وزرائے اعظم کے لیے سیکیورٹی قوائد و ضوابط کی تفصیلات طلب کرلیں ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق کیس میں سابق وزرائے اعظم کو دیے گئے سیکیورٹی رولز طلب کرلیے۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک انصاف کا وفاقی کابینہ کے اجلاس کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے وزیر داخلہ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد عمران خان کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ عدالت کی جانب سے وزارت داخلہ کے نمائندوں کو بھی طلب کیا گیا۔

 چیف جسٹس نے حکام سے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکیورٹی کے لیے دفعہ 17 کا اطلاق ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو بلٹ پروف گاڑی دی گئی لیکن 18ویں آئینی ترمیم کے بعد سیکیورٹی کی فراہمی صوبے کا معاملہ بن گیا ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ سابق وزرائے اعظم کو سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے تاہم نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وفاقی حکومت کو اسلام آباد کی سیکیورٹی کا خیال رکھنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن وقت پر نہ ہوئے تو ہم نکلیں گے قوم کال کا انتظار کرے، عمران خان

عدالت کو بتایا گیا کہ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو معاملہ آئی جی پنجاب کے سپرد ہے۔ عمران خان کو اسلام آباد میں فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کی حیثیت کے مطابق سیکیورٹی ملنی چاہیے۔ قانون میں جو بھی لکھا ہے وہ سیکیورٹی فراہم کی جائے،عدالت نے کہا کہ لاہور کو چھوڑیں، اسلام آباد سے متعلق بتائیں اور قواعد و ضوابط عدالت میں پیش کریں۔

متعلقہ تحاریر