عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کا معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین سے دلائل طلب کرلیے

جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ وہ اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں اور ایسے وکیل کو معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں جس کا کسی پارٹی کی جانب جھکاؤ نہ ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی مختلف کیسز میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے حوالے سے دائر درخواست پر فریقین سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 18 اپریل تک ملتوی کر دی۔

عدالت نے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالہ سے دلائل دیں کہ کیا مختلف مراحل پر ملزم کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی جا سکتی ہے یا نہیں، جبکہ جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ وہ اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں اور ایسے وکیل کو معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں جس کا کسی پارٹی کی جانب جھکاؤ نہ ہو اور وابستگی نہ ہویا کسی کیس کے اندر کسی جماعت کی نمائندگی نہ کرتا ہو۔

یہ بھی پڑھیے 

نواز شریف واپسی کیس؛ فواد چوہدری کا فریق بننے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی جلد سماعت کی درخواست مسترد

عدالت کا کہنا تھا کہ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ اچھا آپشن ہیں ان کو معاون مقرر کیا جا سکتا ہے۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل ابوذر سلمان خان نیازی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں مصروف ہیں اس لئے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔

اس پر عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست میں کیا گراؤنڈز ہیں اور کیا موقف ہے اور آپ کی کیا اپیل ہے۔ اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ ویڈیو لنک اور تمام مقدمات کو جوڈیشل کمپلیکس کے اندر اکٹھا کرنے کی درخواست ہے۔ اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ کیسز کو اکٹھا کرنے والا معاملہ تو سیشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

عدالت نے ایڈیشل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے بتانا ہے کہ کیا ویڈیو لنک کے ذریعہ حاضری کافی ہوتی ہے، کیا تمام اسٹیجز پر ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری ہو سکتی ہے۔ عدالت کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ قانون میں بہت سی جگہوں پر ملزم کی ذاتی حاضری ہوتی ہے، ملزم کی موجودگی میں جرح کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ملزم کو پتہ ہو کہ اس کے خلاف کیا الزامات ہیں اورکیا مقدمہ ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں اور ایسے وکیل کو معاون مقرر کرنا چاہتے ہیں جس کا کسی پارٹی کی جانب جھکاؤ نہ ہو اور وابستگی نہ ہویا کسی کیس کے اندر کسی جماعت کی نمائندگی نہ کرتا ہو۔ عدالت کا کہنا تھا کہ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ اچھا آپشن ہیں ان کو معاون مقرر کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر