جج کو دھمکی دینے کے مقدمے میں عمران خان کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری منظور
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے چھٹی والے دن عدالت کھول کر چیئرمین تحریک انصاف کی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کرتے ہوئے انہیں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔
حکومت کے لیے ایک اور شرمندگی کا سامان ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے سے متعلق کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت منظور کرلی ہے۔
گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد پولیس اپنے شہریوں کو اغوا کرکے بھتہ طلب کرنے لگی
خاتون جج دھمکی کیس، عمران خان نے تحریری جواب میں معذرت کا لفظ نہیں لکھا
ایک جانب عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر ملک کے تقریب تمام شہروں میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے جبکہ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ بھی آج چھٹی کے دن کھل گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی نے عمران خان کی 7 اکتوبر تک 10 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔
جج جسٹس محسن اختر کیانی نے عمران خان کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنی درخواست میں کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ ’سیاسی بنیادوں‘ پر درج کیا گیا ہے ، انہوں نے درخواست میں الزام لگایا ہے کہ پولیس حکومت کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔
سینئر سول جج رانا مجاہد رحیم کی جانب سے سابق وزیر اعظم کے خلاف وارنٹ جاری کیے جانے کے بعد عمران خان نے قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
واضح رہے کہ سینئر سول جج رانا مجاہد رحیم نے مارگلہ تھانے کے ایس ایچ او کو احکامات پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی تھی۔
مجسٹریٹ نے پی ٹی آئی سربراہ کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کے بارے میں ریمارکس پر 20 اگست کو درج مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی چار دفعات شامل کی گئی تھیں ، جن میں 506 (مجرمانہ دھمکی کی سزا)، 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین)، 189 (سرکاری ملازم کو زخمی کرنے کا خطرہ) اور 188 ( سرکاری ملازم کے جاری کردہ حکم کی نافرمانی)۔
اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا معاملہ۔ وارنٹ گرفتاری ایک قانونی عمل ہے۔ عمران خان پچھلی پیشی پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ ان کی عدالت میں پیشی کو یقینی بنانے کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں۔”
چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا معاملہ۔
وارنٹ گرفتاری ایک قانونی عمل ہے۔عمران خان پچھلی پیشی پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ان کی عدالت میں پیشی کو یقینی بنانے کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں۔
معزز عدالت عالیہ نے مقدمہ نمبر 407/22 سے
1/2— Islamabad Police (@ICT_Police) October 1, 2022
اسلام آباد پولیس نے مزید لکھا ہے کہ "معزز عدالت عالیہ نے مقدمہ نمبر 407/22 سے دہشت گردی کی دفعہ خارج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم کے بعد یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ عمران خان نے سیشن کورٹ سے ابھی تک اپنی ضمانت نہیں کروائی۔ پیش نہ ہونے کی صورت میں انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ وام سے گذارش ہے کہ افواہوں پر کان مت دھریں۔”









