سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرنیوالے جج کا تبادلہ
اعظم سواتی کی ضمانت کا فیصلہ 16 دسمبر تک موخر، راجہ آصف محمود کو اسلام آباد ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کا حکم، اعظم خان اسپیشل جج سینٹرل تعینات، اعلامیہ جاری

متنازع ٹوئٹ کیس میں گرفتار سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت بعدازگرفتاری کا فیصلہ محفوظ کرنے والے جج کا تبادلہ کر دیا گیا، اعظم سواتی کی ضمانت کا فیصلہ 16 دسمبر تک موخر دیا گیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اسپیشل جج سینٹرل راجہ آصف محمود نے اپنی عدالت کا چارج چھوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیے
اعظم سواتی کو گرفتار نہ کرنے کے احکامات، آئی جی سندھ ججز پر بھڑک اٹھے
مجھے گولی مار دو ورنہ سب کو ننگا کردونگا، اعظم سواتی جذباتی ہوگئے
راجہ آصف محمود کی خدمات اسلام آباد ہائیکورٹ کے سپرد کردی گئی ہیں، انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جسکا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق جج اعظم خان نئے سپیشل جج سینٹرل تعینات ہوگئے۔ وزارت قانون نے جج اعظم خان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ واضح رہے کہ جج اعظم خان کی بطور اسپیشل جج سینٹرل تعیناتی کی سفارش ہائیکورٹ نے کی تھی۔
واضح رہے کہ سینیٹر اعظم سواتی نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل ٹوئٹ کرتے ہوئے انہیں اور دیگر فوجی افسران کو نام لیکر مغلظات بکیں تھیں جس کے بعد ایف آئی اے نے اعظم سواتی کو گرفتار کرلیا تھا۔
بعدازاں اعظم سواتی کیخلاف بلوچستان اور سندھ کے مختلف تھانوں میں درجنوں مقدمات درج کرلیے گئے تھے جس کی وجہ سے پہلے انہیں اسلام آباد سے بلوچستان منتقل کیاگیا تھا تاہم بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے تمام مقدمات ختم کرکے ضمانت منظور کیے جانے پر سینیٹر اعظم سواتی کو اندرون سندھ منتقل کردیا گیا تھا۔
تاہم آج سندھ ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کے تمام مقدمات ختم کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کیخلاف مزید مقدمات نہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔









