کاغذات نامزدگی میں مبینہ بیٹی کا نام ظاہر نہ کرنے پر آئی ایچ سی نے عمران خان سے جواب طلب کرلیا
شہری محمد ساجد کی جانب سے عمران خان کے خلاف نااہلی کی درخواست دائر ہوئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف مبینہ بیٹی کا نام کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو تحریری جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے مبینہ بیٹی کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے سے متعلق عمران خان کے خلاف شہری محمد ساجد کی درخواست پر نااہلی کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے
فارم ہاؤس کو سیل کرنے کا معاملہ، اعظم سواتی کی اہلیہ نے آئی ایچ سی سے رجوع کرلیا
سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرنیوالے جج کا تبادلہ
شہری محمد ساجد کی جانب سے عمران خان کے خلاف نااہلی کی درخواست دائر ہوئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں۔ عمران خان نے اپنے بچوں کی تفصیل میں 2 کا ذکر کیا، ایک کی معلومات چھپائیں، لہٰذا عدالت عمران خان کو نااہل قرار دے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں عمران خان ، الیکشن کمیشن اور وفاق کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کر رکھا ہے۔
عدالت عالیہ میں الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن پیش ہوئے جب کہ عمران خان کی جانب سے سلمان اکرم راجا نے وکالت نامہ جمع کرایا۔انہصں نے موقف اختیار کیا کہ اس قسم کے کیس کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ کئی بار پہلے بھی ہمارے پاس آ چکا ہے، ایسی درخواستیں مسترد ہوتی رہی ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کے وکیل کا وکالت نامہ آگیا ہے، انہیں جواب کے لیے وقت دے رہے ہیں، جس پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی۔









