پشاور دھماکے کے بعد خیبر پختونخواہ پولیس میں اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع

خیبر پختونخواہ پولیس کے اعلامیہ کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او) چارسدہ سہیل خالد کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کا اضافی چارج تفویض کردیا گیا جبکہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی جاوید اقبال کو عہدے سےہٹاکر اسپیشل برانچ میں تبادلہ کردیا گیا

انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخواہ معظم جاہ انصاری نے پشاور دھماکے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) جاوید اقبال  کا تبادلہ کردیا ۔

پشاور دھماکے کے بعد خیبرپختونخواہ پولیس میں تقرریاں اور تبادلے کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹا کر اسپیشل برانچ میں تبادلہ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ملکی تاریخ میں پہلی بار پولیس اہلکاروں کا پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ

خیبر پختونخواہ پولیس کے اعلامیہ کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او) چارسدہ سہیل خالد کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کا اضافی چارج تفویض کردیا گیا ۔

ڈی پی اوچارسدہ سہیل خالد زاہد مروت کی رخصت سے واپسی تک ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے فرائض سر انجام دیں گے جبکہ آصف گوہرایس پی اسپیشل برانچ مقرر کیا گیا ہے ۔

دوسری جانب حکومت نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو بھی تبدیل کردیا ہے ۔ امداد اللہ بوسل  کو نیا چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا تعینات  کیا گیا ہے ۔

خیال رہے کہ پولیس لائنز پشاور کی مسجد میں دھماکے سے 100 سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ 200 زخمی ہیں جن میں سے متعدد افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پشاور پولیس لائنز مسجد میں خودکش حملے کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد مذمت منظورکی گئی ہے ۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان خراسانی گروپ نے پشاور دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ آئی جی خیبر پختونخواہ نے کہا ہے کہ واقعے کی ہر زاویے سے  تحقیقات جاری ہے ۔

متعلقہ تحاریر