پاک افغان سرحدی  تنازعہ: افغان طالبان نے طور خم بارڈر مکمل بند کردیا

ذرائع کے مطابق ایک افغان شہری نے مریض کےہمراہ بغیر سفری دستاویزات کے پاکستان داخل ہونے کی کوشش کی جسے پاکستانی حکام نے روک دیا جس پر افغان طالبان نے سرحد کو مکمل طور پر بند کردیا، افغان فورسز نے ایف سی کی چیک پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا

پاک افغان طورخم بارڈر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد بند کر دیا گیا۔دونوں پڑوسیوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان طالبان نے طورخم سرحد کو بند کردیا ہے ۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد پر شدید جھڑپیں ہوئیں،اس دوران دونوں ممالک کی فورسز نے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کی جس کے بعد طور خم بارڈر بند کردیا گیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

افغان طالبان کی مدد سے کالعدم ٹی ٹی پی مزید طاقتور بن گئی، یو ایس آئی پی

ذرائع کے مطابق طورخم سرحد پر افغان فورسز نے ایف سی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور دشمن کی توپیں خاموش کروادیں۔

ایک افغان شہری نے مریض کےہمراہ بغیر سفری دستاویزات کے پاکستان داخل ہونے کی کوشش کی جسے پاکستانی حکام نے روک دیا جس پر افغان طالبان نے سرحد کو مکمل طور پر بند کردیا ۔

ذرائع کے مطابق طورخم سرحدی گزرگاہ بدستور بند ہونے کی وجہ سے پیدل آمدورفت سمیت تجارتی سرگرمیاں معطل ہے سرحدی گزرگاہ گزشہ شام افغان سیکورٹی حکام نے بند کردیا تھا۔

پاک افغان طورخم بارڈر پر دونوں ممالک کی جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی تاہم سرحدی علاقے کے مکین اختیاطاً پر امن مقام پر منتقل ہوگئے ہیں۔

تاجروں کے مطابق  طورخم بارڈر بند ہونے سے تجارتی سرگرمیاں رک گئی ہیں اور سرحد پر  کم از کم 300 ٹرک پھنسے ہوئے ہیں جس میں  موجود اشیائے خور و نوش خراب ہونے کا امکان ہے ۔

افغان طالبان حکومت پاکستان میں علاج کے خواہشمند افغان مریضوں کے سفر پر غیراعلانیہ پابندی سے ناراض تھی جس پر انہوں نے جھڑپوں کے بعد طور خم بارڈر بند کردیا ہے ۔

افغان طالبان کے  رہنما مولوی محمد صدیق  نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی اور اس لیے ہماری قیادت نے گیٹ وے بند کرنے کے احکاماے دیئے تھے ۔

 روئٹرز کے مطابق پاکستانی فوج، پولیس اور سرکاری ترجمان فوری طور پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے لیکن دو عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ سرحد کو بند کر دیا گیا ہے ۔

متعلقہ تحاریر