سیلابی پانی میں سانپ نکل آئے، نوشہرہ میں 134 افراد شکار

سیلابی پانی میں بہہ کر آنے والے زہریلے سانپوں نے انسانوں کو کاٹنا شروع کر دیا ہے۔

زہریلے سانپوں نے ضلع نوشہرہ میں 134 افراد کو کاٹ لیا ہے جن میں سے ایک خاتون کا انتقال ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سانپ بھوک کی وجہ سے خوفناک ہوگئے ہیں اور خوراک کی تلاش میں وہ ہر سامنے آنے والی چیز کو کاٹ رہے ہیں۔

اسپتالوں میں چونکہ انجکشن دستیاب نہیں اس لئے لوگوں کی اموات اور معذوری کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان بحریہ کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع

دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ کی شدت برقرار، نئے سیلاب کی پیش گوئی

محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایاکہ سیلابی پانی میں زہریلے کیڑے مکوڑوں اور سانپ وغیرہ کے داخل ہونے کی اطلاعات پر لوگوں کو الرٹ کردیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود صوبہ میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو زہریلے جانوروں اور حشرات نے ڈنک مارا ہے صرف ضلع نوشہرہ میں 134 افراد کو سانپوں نے کاٹا ہے جن میں سے ایک خاتون محب بانڈہ میں بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے جاں بحق ہوگئی ہے خاتون کو اپنے گھرمیں سانپ نے کاٹا تھا۔

دوسری طرف صوبے کے زیادہ تر اسپتالوں میں اینٹی وینم موجود نہیں جس کی وجہ سے سانپ اور دیگر زہریلے جانوروں کے کاٹے سے متاثرہ افراد کا کوئی علاج نہیں ہو رہا ہے۔

حکمہ واٸلڈ لاٸف کی رپورٹس کے مطابق حالیہ سیلاب کی وجہ سے ملک کے بالاٸی علاقوں سے سانپ اور دیگر واٸلڈ لاٸف بہہ کر آرہے ہیں جس میں کچھ خطرناک اور زہریلے سانپ کی مختلف اقسام بھی شامل ہے اور پانی کی سطح میں کمی آنے کے بعد یہ سانپ جان بجانے کیلٸے دریا کے کناروں کا رخ کررہے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مقامی آبادی کو ہدایات جاری کی گئی ہے کہ دریا کابل کے آس پاس آباد لوگ دریا کے قریب جانے سے گریز کریں ، خصوصاً رات کے اوقات میں دریا کابل کے قریب جانے سے گریز کریں اور ان مہلک اور خطرناک زہریلے اور سانپوں کے کاٹنے سے بچیں۔

محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق یہ سانپ خطرناک جانوروں کی ایک قسم ہے تاہم اکثر سانپ زہریلے اور مہلک نہیں ہین ، لہٰذا ان سانپوں کو محفوظ راستہ دیں تاکہ وہ محفوظ پناہ تلاش کرسکیں۔ کوٸی اژدھا یا بڑا سانپ نظر آٸیں تو محکمہ واٸلڈ لاٸف کو فوری اطلاع دیں، تاکہ واٸلڈ لاٸف کو نقصان نہ پہنچے اور ان سانپوں کو دوبارہ ان علاقوں میں واپس چھوڑا جا سکے۔

متعلقہ تحاریر