منی لانڈرنگ کیس: نیب کے بعد ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دے دی

ایف آئی اے نے رقوم جمع کرانے والے افراد کے بیانات ریکارڈ کیے، کسی نے بھی گواہ نے سلیمان شہباز پر الزام عائد نہیں کیا کہ رقوم جمع کرانے عوض کوئی کک بیک یا کمیشن دی گئی ہو۔

ایف آئی اے نے وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بے گناہ قرار دیا۔ ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ مقدمے کا ضمنی چالان اسپشل سینٹرل کورٹ میں جمع کرا دیا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بے گناہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے

پی ڈی ایم کی سیلاب سے متعلق رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں جمع، غلط اعداوشمار پر عدالت کا اظہار برہمی

کیا حکومت عمران خان ، قاسم سوری اور فرخ حبیب کے خلاف ایکشن لینے لگی ہے؟

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے جمع کروائے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سلیمان شہباز اور طاہر نقوی کو ملزمان کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق تفتیش کے مطابق سلیمان شہباز کبھی عوامی نمائند یا پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے ، ثابت نہیں ہوا کہ سلیمان شہباز کسی عوامی نمائندے کے بےنامی دار رہے ہیں۔

سلیمان شہباز پر پیکا ایکٹ کے سیکشن 5 کی شق 2 کے الزامات ثابت نہیں ہوئے ، سلیمان شہباز پر منی لانڈرنگ اور اکاؤنٹس میں غیر قانونی ٹرانزیکشن کے الزامات کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

ایف آئی اے نے رقوم جمع کرانے والے افراد کے بیانات ریکارڈ کیے، کسی نے بھی گواہ نے الزام عائد نہیں کیا کہ رقوم جمع کرانے عوض کوئی کک بیک یا کمیشن دی گئی ہو۔ ملزمان کے خلاف کوئی مجرمانہ شواہد نہیں ملے ، اس لیے سلیمان شہباز اور طاہر نقوی کے خلاف کوئی چالان جمع نہیں کیا جارہا۔

متعلقہ تحاریر