بغیر کسی مقدمے کے پی ٹی آئی ڈیجیٹل میڈیا کے سربراہ اظہر مشوانی پچھلے 20 گھنٹوں سے لاپتہ
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اظہر مشوانی کے اغواء کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے اظہر مشوانی کے اغواء میں آئی جی پنجاب کے ملوث ہونے کا اشارہ دیا ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کے بعد پی ٹی آئی ڈیجیٹل میڈیا کے ہیڈ کو اغواء کرلیا گیا ہے ، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اظہر مشوانی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مختلف میڈیا چینلز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سوشل میڈیا کے سربراہ اظہر مشوانی کو جمعرات کو لاہور میں ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
آئی ایم ایف نے اسحاق ڈار کی وزارت خزانہ کے ایک اور جھوٹ کا پول کھول دیا
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف کل سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کرائی جائے گی، اسد عمر
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے لکھا ہے کہ "بس بہت ہوگیا! پنجاب اور اسلام آباد میں پولیس تحریک انصاف کو ہدف بنانے کیلئے پوری ڈھٹائی سے قوانین کی دھجیاں اڑارہی ہے۔ آج سہ پہر اظہرمشوانی کو لاہور سے اٹھا لیا گیا اور کہاں لےجایاگیا،اب تک معلوم نہیں۔”
عمران خان نے مزید لکھا ہے کہ "18مارچ کو سینیٹر شبلی فراز اور عمرسلطان جن کے پاس عدالتی کمپلیکس میں داخلے کی اجازت موجود تھی، کو اسلام آباد پولیس نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ حسان نیازی کو ضمانت ملتے ہی اٹھالیاگیا اور اسے قید میں رکھنے کیلئےایک جھوٹا مقدمہ اس پر ڈال دیا گیا۔”
چیئرمین تحریک انصاف کے سربراہ نے لکھا ہے کہ "میں پنجاب اور اسلام آباد کے آئی جیز اور ان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام افسران کی تصاویر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بھجوا رہاہوں تاکہ وہ ریاست وسرکار کیلئے کام کرنے والے ان کرداروں کو پہچان سکیں جو تحریک انصاف کے ذمہ داران اور نہتّے کارکنان کےاغواء، ان کی رہائش گاہوں پر چھاپوں، دورانِ حراست ان سے مار پیٹ کرنے اور ان پر بےدریغ تشدد آزمانے میں ملوث ہیں۔ اظہر مشوانی کو فوراًرہا کیا جائے۔”
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ "IG پنجاب کی دھمکی آمیز گفتگو کے بعد اظہر مشوانی کو اغواء کر کیا گیا ہے ، اظہر کو فوراً عدالت میں پیش کیا جائے اور الزامات کی تفصیل بتائی جائے، IG صاحب اگر سمجھتے ہیں ظل شاہ کو قتل کرنے اور تشدد کرنے کے بعد ان پر تنقید بھی نہیں ہو گی تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔”









