لاہور ہائیکورٹ نے 45267 ایکڑ اراضی کی پاک فوج کو حوالگی روک دی
نگراں حکومت کو مستقل نوعیت کے فیصلوں کا اختیار نہیں ، آرمی ایکٹ میں ادارے کو فلاح و بہبود کے دائرہ کار سے باہر کسی سرگرمی کا اختیار حاصل نہیں ، وکیل درخواست گزار:

لاہور ہائیکورٹ نے کاروباری کاشتکاری کے لیے 45 ہزار 267 ایکڑزرعی اراضی کی پاک فوج کو حوالگی روک دی ۔
پنجاب کی نگراں حکومت نے حال ہی میں تین اضلاع بھکر، خوشاب اور ساہیوال میں مذکورہ اراضی فوج کو 20 سال کی لیز پر دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے (اس مدت میں مزید 10 سال کی توسیع کے امکان کے ساتھ)۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان بار کونسل کا پاک فوج کو 45ہزار 267 ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ کرنیکا مطالبہ
عمران خان کا اپنے خلاف درج مقدمات کے اخراج کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع
ایک غیر منافع بخش قانونی تنظیم پبلک انٹرسٹ لا ایسوسی ایشن آف پاکستان (PILAP) نے معاہدے اور اس کے بعد نگراں حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیاتھا کہ نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کیونکہ آئین کے تحت کسی صوبے کی نگراں حکومت کو ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔جمعے کو جسٹس عابد حسین چٹھہ نے ایڈووکیٹ احمد رفیع عالم اور فہد ملک کے توسط سے دائر کردہ پلاپ کی درخواست کی سماعت کی ۔
وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب کالونیز ڈیپارٹمنٹ نے 20 فروری کو کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز (پنجاب) ایکٹ 1912 کے سیکشن 10 کے تحت زمین حوالے کرنے کااعلامیہ جاری کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کا دائرہ کار روزمرہ کے کام کرنے تک محدود ہے اور اس کے پاس مستقل نوعیت کے پالیسی فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ایڈووکیٹ فہد ملک نے نشاندہی کی کہ 30 سال کے لیے سرکاری زمین دینا مستقل نوعیت کا فیصلہ ہے ،جو نگراں حکومت نہیں کر سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت نگراں حکومت کالونائزیشن ایکٹ کے سیکشن 10 کے اختیارات استعمال کرنے کی مجاز نہیں ہے جبکہ زمین کی مبینہ حوالگی پبلک ٹرسٹ کے نظریے کی بھی خلاف ورزی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت بعض قدرتی وسائل کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور انہیں من مانی طور پر نجی شہریوں کو نہیں دے سکتی۔
وکیل نے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں نے اسی نظریے کے تحت ان قدرتی وسائل پر ریاست کی ٹرسٹی کے طور پر کام کرنے کی ذمہ داری کو تسلیم کیا ہے۔ یہ نظریہ حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ قدرتی وسائل کی حفاظت کرے اور ان کا استعمال تجارتی مفادات کے بجائے تمام شہریوں کے لیے فائدہ مند بنائے۔
وکیل نے استدلال کیا کہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جس سے ادارے کو فلاح و بہبود کے دائرہ کار سے باہر کوئی بھی سرگرمی کرنے کا اختیار دیا جائے جب تک کہ وفاقی حکومت واضح طور پر ایسا کرنے کی اجازت نہ دے دے۔
انہوں نے موقف اپنایا کہ فوج کو نہ تو اپنے دائرہ کار سے باہر کاروباری منصوبوں میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر مشغول ہونے کا اختیار ہے اور نہ ہی وہ کاروباری کاشتکاری کے لیے کسی سرکاری اراضی کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چٹھہ نے زمین کارپوریٹ فارمنگ کے حوالے نہ کرنے کا حکم دیا اور جواب دہندگان کو 9 مئی تک رپورٹ پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا۔









