چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے داماد علی افضل ساہی اسلام آباد سے گرفتار

رہنما تحریک انصاف علی افضل ساہی لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کے داماد ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق ایم پی اے اور سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی کو منگل کے روز اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے باہر سے گرفتار کر لیا گیا۔

رہنما تحریک انصاف علی افضل ساہی اپنے خلاف گولڑہ تھانے میں درج مقدمے میں پیشی کے لیے اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس آئے تھے لیکن سماعت کے بعد جاتے ہی انھیں عمارت کے باہر سے پولیس نے گرفتار کر لیا۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کے لیے 9 مئی کے واقعات پاکستانی معیشت سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئے

بلوچستان کے علاقے بارکھان میں دھماکہ، کم سے کم 2 افراد جاں بحق

علی افضل ساہی کے وکیل قاسم عباسی کا کہنا تھا کہ عدالت نے ان کی ضمانت میں 3 جولائی تک توسیع کی تھی اس کے باوجود میرے موکل کو گرفتار کرلیا گیا ، جو سراسر غیرقانونی اور غیر آئینی عمل ہے اور عدالت توہین ہے۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن نے علی افضل ساہی کے کیس کی سماعت کی تھی اور ان کی ضمانت میں 3 جولائی تک توسیع کردی تھی۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت سے جب سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی روانہ ہوئے تھے تو عدالت کے باہر پہلے سے موجود پولیس کی بھاری نفری نے انہیں حراست میں لے لیا اور اپنے ساتھ لے کر روانہ ہو گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علی افضل ساہی کو ان کے خلاف دیگر مقدمات کی وجہ سے گرفتار کیا ہے۔ تاہم ان کی لیگل ٹیم کو نہیں بتایا جارہا کہ کون سے کیس کے اندر کی گرفتاری ڈالی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رہنما تحریک انصاف اور سابق صوبائی وزیر علی افضل ساہی لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کے داماد ہیں۔

متعلقہ تحاریر