لاہور ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ ، حمزہ شہباز مشکل میں

عدالت عالیہ نے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مخصوص نشستوں پر نوٹی فیکیشن جاری کرنے کو حکم دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر اراکین کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پنجاب میں حکومت اور حزب اختلاف میں تین ووٹوں کا فرق رہ جائیگا ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ حمزہ شہباز کے لیے مشکل کھڑی کردے گا ، کیونکہ اسمبلی کے اندر نشستوں کی تعداد تبدیل ہو جائے گی۔

صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر ارکان کا نوٹیفکیشن نہ کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر جسٹس شاہد وحید نے 27 جون پیر کے روز  سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

فیصل آباد میں چوری کا مقدمہ سننے والے جج کا  اپنا موبائل چوری ہوگیا

منی لانڈرنگ کیس ، بینکنگ کورٹ سے مونس الہٰی کی عبوری ضمانت منظور

سماعت میں وکیل پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے بعد ان نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا پابند ہےلیکن نوٹیفکیشن جاری نہیں کر رہا۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی فہرست بدل نہیں سکتی. ہم نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ اس پر نوٹیفکیشن جاری کریں۔

وکیل پی ٹی آئی کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہا کہ 20 سیٹیں خالی ہوئی ہیں، اس لیے پارٹیوں کی مجموعی نشستیں بھی بدلی ہیں، کمیشن کا یہ مؤقف قانون کے مطابق نہیں ہے۔

دوسری طرف ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جنرل الیکشن کے بعد ہوتا ہے، اب 20 نشستوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بدل گیی ہے، میرا تو خیال تھا کہ یہ لارجر بینچ کا معاملہ ہے۔

بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر منتخب پی ٹی آئی کے پانچ اراکین سمیت 25 منحرف اراکین اسمبلی کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا اور 23 مئی کو انہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کیا تھا۔ جس میں 20 جنرل نشستیں اقر پانچ مخصوص نشستیں شامل ہیں۔

پی ٹی آئی نے 28 مئی کو لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ خالی نشستوں پر نئے ایم پی ایز کی تعیناتی کے لیے اعلامیہ جاری کیا جائے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 2 جون تک کی مہلت دیتے ہوئے معاملے پر فیصلہ دینے کے لیے کہا تھا۔

جس پر ای سی پی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آئین میں فراہم کردہ متناسب نمائندگی کی اسکیم خواتین اور غیر مسلموں کے لیے خالی مخصوص نشستوں کو پر کرنے کے لیے لازمی ہے، آئین کے آرٹیکل 106 کی روح کے پیش نظر ہم پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 20 جنرل نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج تک خالی مخصوص نشستوں کو پر کرنے کے عمل کو مؤخر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔

خیال رے کہ اگر عدالت کے حکم کے مطابق الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کر دیتا ہے تو حکومت اور حزب اختلاف میں تین ووٹوں کا فرق رہ جاتا ہے اس وقت حکومت کے پاس ووٹوں کی تعداد 177 ہے جس میں مسلم لیگ ن کے 165 ، پیپلز پارٹی 7 ، رائے حق پارٹی کی ایک نشست سمیت چار آزاد اراکین کی حمایت حاصل ہے ۔ حزب اختلاف کی اس وقت تعداد 169 ہے جس میں 158 پی ٹی آئی ، 10 ق لیگ اور ایک آزاد رکن پنجاب اسمبلی کی حمایت شامل ہے ۔ پانچ مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن ہونے کے بعد یہ تعداد 174 ہوجائے گی۔

متعلقہ تحاریر