ملک کا حلیہ بگاڑنے کے بعد مریم نواز پی ٹی آئی کے لوٹوں کی انتخابی مہم میں اتر گئیں
سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ لوٹوں کی انتخابی مہم میں مریم نواز صاحبہ کون سے کارکردگی کا حوالے دے کر پنجاب کی عوام سےووٹ مانگیں گی۔
پنجاب کے 20 حلقوں میں انتخابی دنگل 17 جولائی کو سجے گا ، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف ، پی ٹی آئی کے منحرف ارکان یعنی لوٹوں کی انتخابی مہم کے لیے آج سے میدان میں اتر رہی ہیں۔ ن لیگ کی مرکزی رہنما مریم نواز کا انتخابی مہم میں جانا بہت سے سوال پیدا کرتا ہے ، کہ وہ انتخابی مہم کے دوران کیا منشور پیش کریں گی کہ ن لیگ کی ڈھائی میں کہ حکومت نے پیٹرول 150 سے 250 روپے فی لیٹر کردیا ہے یا مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے بڑھا کر 21 فیصد کردی ہے؟
پنجاب میں 17 جولائی کو ضمنی انتخابات کا دنگل سجے گا۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے بعد صورتحال مختلف ہوگئی ، سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے ارکان کے منحرف ارکان ڈی سیٹ ہونے کے بعد ضمنی انتخابات 17 جولائی کو لڑ رہے ہیں جس کی انتخابی مہم آج کل زورو شور سے جاری و ساری ہے پارٹی کی مرکزی قیادت ان انتخابات میں اپنا اپنا منشور پیش کرتے ہوئے جیت کیلئے پر عزم ہیں۔ موجودہ حکمران جماعت ن لیگ نے مریم نواز کو میدان میں اترا ہے جو لوگ 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے اب ن لیگ ان کو جتوانے کیلئے ایری چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور ہائیکورٹ کا مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ عملدرآمد کا منتظر
حمزہ شہباز کی حکومت کل دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک کی مہمان
یاد رہے کہ ان 25 نشستوں میں سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے لوگ کامیاب ہوئے تھے مگر حمزہ شہباز شریف کو پارٹی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹ دینے کے باعث ان کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیا گیا اب ان میں سے 20 جنرل صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہونے والا ہے مگر اس بار پی ٹی آئی کے منحرف ارکان بیشتر ن لیگ کے ٹکٹ سے میدان میں اترے ہیں۔
ان 20 جنرل نشستوں میں چار نشستیں صوبائی دارالحکومت لاہور کی بھی ہے۔ لاہور کے چار حلقوں میں پی پی 158، پی پی 167، پی پی 168 اور پی پی 170 میں الیکشن ہورہا ہے۔
نائب صدر مسلم لیگ ن سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ضمنی انتخابات میں پارٹی منشور دینے اور ان لوٹے امیدوار کو جتوانے کیلئے حلقوں کا دورہ کریں گی جہاں وہ جلسے بھی کرینگی۔
ن لیگ کے مطابق مریم نواز 2 جولائی کو پی پی 167 میں انتخابی مہم کے تحت گرین ٹاؤن بازار میں جلسہ کرینگی ، 3 جولائی کو پی پی 158 ، دھرم پورہ چوک میں جلسہ کرینگی اور 4 جولائی کو پی پی 170، باگڑیاں چوک جلسے سے خطاب کرنے جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ "ن لیگ کی مرکزی رہنما مریم نواز کا انتخابی مہم میں جانا بہت سے سوال پیدا کرتا ہے جیسے مریم نواز ضمنی انتخابات میں انتخابی مہم کے دوران کیا منشور پیش کرینگی؟ کیونکہ پی ڈی ایم جو مہنگائی مارچ کرتے ہوئے عمران خان پر تنقیدی تیر چلاتے تھے ان کے دور حکومت میں تو مہنگائی کی شرح پہلے کی نسبت دو گنا ہے اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بھی ہوش ربا اضافہ ہوچکا ہے۔”
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ "مریم نواز ، بلاول بھٹو اور حمزہ شہباز مہنگائی مارچ کر چکے ہیں جس میں وہ سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کو شدید تنقید کرتے رہے ہیں مگر مرکز اور صوبہ پنجاب میں ن لیگ کی حکومت جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت میں ہے۔”
ان کا مزید کہنا ہے کہ "مسلم لیگ (ن) کےدور حکومت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ چکی ہے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے اب تو عمران خان یعنی پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے پھر کیوں ملک عدم استحکام کی طرف جا رہا ہے۔”
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ "کیا مریم نواز اپنی وفاق اور صوبے میں ناقص حکمت عملی پر ووٹ مانگے گی یا ابھی بھی وہ عمران خان کو ہی قصوروار قرار دینگی ؟ پی ٹی آئی کے دور میں زرمبادلہ 20 ارب ڈالر تھے جو ن لیگ ڈھائی ماہ کے دور حکومت میں 10 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، کیا اس کارکردگی پر ووٹ مانگے گی؟”
سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ "عوام ن لیگ کو پی ٹی آئی کے لوٹوں کو کامیاب کروانے میں مریم نواز کی مدد کرینگے؟ جو 2018 میں ن لیگ کے امیدواروں کو شکست فاش دے چکے ہیں۔ کیا مریم نواز عوام سے پیٹرول جو 150 روپے لیٹر تھا آج 250 روپے لیٹر ہے اس پر ووٹ مانگے گی ؟ بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر عوام ن لیگ کو ووٹ کرینگی ؟ مہنگائی کے نام پر مارچ کرنے والی ن لیگ کو مہنگائی 11 فیصد سے 21 فیصد کرنے پر ووٹ دیگی؟”
اس طرح کے بہت سے سوالات ہے جو ن لیگ کی حالیہ دو ماہ کی کارکردگی پر اٹھائے جا سکتے ہیں مگر پھر بھی ن لیگ اپنی جیت کیلئے کوشاں ہے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو میدان میں اتر رہی ہے۔
ان ضمنی انتخابات میں کوئی بھی جیتے مگر عوام کو سوچنا ہوگا کہ وہ ملک کیلئے کن لوگوں کو ووٹ کررہے ہیں۔ کون لوگ ملکی مفاد کو ذاتی مفادات کی نظر کر رہے ہیں۔ عوام کے پاس ووٹ کی طاقت کے علاوہ کوئی اور حل نہیں جو وہ استعمال کرتے ہوئے ملک کو بہتر ہاتھوں میں دے۔









