لاہور ہائی کورٹ کا حکومتی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق بڑا فیصلہ

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا حکومت کی بنائی گئی کمیٹی کو عدالت دیکھے گی ، حکومت کو کام کرنے دیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے من پسند علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی منظوری کے لیے حکومتی کمیٹی کی تشکیل کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

جسٹس شاہد وحید نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے اظہر صدیق کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بنیادی حقوق اور ضروریات پوری کرنے کے لیے فنڈز کے اجراء کا معاملہ ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ کیمٹی سیاسی بنیادوں پر فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹیلی تھون کی بھرپور کامیابی پر چوہدری پرویز الٰہی کی عمران خان کو مبارکباد

مراد راس ممنوعہ فنڈنگ کیس، عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ فنڈز کے اجراء کے لیے کمیٹی کی تشکیل قانون کی خلاف اور آئین کے بھی متصادم ہے لہٰذا کمیٹی کے تشکیل بارے کیبنٹ ڈویژن کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا حکومت کی بنائی گئی کمیٹی کو عدالت دیکھے گی ، حکومت کو کام کرنے دیں۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے درخواست والی لینے کی بنا پر نمٹا دی۔

متعلقہ تحاریر