زنیرہ ماہم کا کھیل ختم ، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے انکوائری شروع کردی

مہدی علی کاظمی نے اپنے وکلاء پینل کے ذریعے یوٹیوبر زنیرہ ماہم کے خلاف تحقیقات کی باقاعدہ درخواست دے دی۔

مہدی علی کاظمی نے یوٹیوبر زنیرہ ماہم کے خلاف ایکشن لے لیا ، ایف آئی اے اپنے طور پر تحقیقات شروع کرچکی تھی تاہم اب انہیں باقاعدہ درخواست دے دی گئی ہے۔

مہدی علی کاظمی کے وکلاء کی جانب سے زنیرہ ماہم کے خلاف ایف آئی اے کو درخواست دے دی گئی ہے۔ درخواست کے متن کے مطابق ایف آئی اے فوری طور پر پیکا آرڈیننس کے تحت زنیرہ ماہم کے خلاف ایکشن لے۔

یہ بھی پڑھیے

کمشنر کراچی کی دریا دلی : سیلاب متاثرین میں 10، 10 روپے والے بسکٹ بانٹیں

مغویہ بچی کیس، ملزم ظہیر احمد اور شبیر احمد کی درخواست ضمانت منظور

مہدی علی کاظمی نے زنیرہ ماہم کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنے کے حوالے سے کارروائی کی درخواست کی ہے۔

مہدی علی کاظمی کی جانب سے لگائے گئے الزامات اگر ثابت ہو جاتے ہیں تو پیکا ایکٹ کے تحت انہیں 3 سے 7 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ جبکہ دس لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو جو درخواست مہدی علی کاظمی کی جانب سے موصول ہوئی ہے وہ سینئر وکیل عمران جاوید قریشی اور ایڈووکیٹ محمد فیاض رامے کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ زنیرہ ماہم اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے زنیرہ ماہم کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع ہو چکی ہے۔

نیوز 360 کے اطلاعات کے مطابق زنیرہ ماہم کے خلاف ایف آئی اے نے 16 ستمبر کو انکوائری شروع کردی تھی۔

واضح رہے کہ نیوز 360 سے پہلے ہی سے اپنے ناظرین کو انفارم کردیا تھا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ زنیرہ ماہم کے خلاف انکوائری شروع کرنے والی ہے۔

زنیرہ ماہم کی جانب سے مہدی علی کاظمی اور ان کی فیملی کے خلاف انتہائی تضحیک آمیز کمپین شروع کی گئی تھی۔

زنیرہ ماہم گزشتہ پانچ ماہ سے مہدی علی کاظمی ، ان کی بیٹی دعا زہرہ اور ان کی فیملی کے خلاف انتہائی گھٹیا کمپین چلارہی تھی جس پر پہلا ایکشن ہو گیا ہے۔

زنیرہ ماہم کی گھٹیا کمپین کو لگام دینے کے لیے مہدی علی کاظمی نے اب باقاعدہ اپنے وکلاء پینل کے ذریعے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں درخواست دے دی ہے۔

سینئر تجزیہ کار شبیر حسین کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو اب درخواست موصول ہوگئی ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ایف آئی اے حکام کو زنیرہ ماہم کے علاوہ ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف بھی ایکشن لینا چاہیے، یعنی ایف آئی اے کو علی جعفری ، میاں زائد اور بلال احمد کے خلاف بھی ایکشن لینا چاہیے۔

تجزیہ کار شبیر احمد کا کہنا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہر موقع پر زنیرہ ماہم کو سپورٹ کیا ، یعنی وہ زنیرہ ماہم کے جرم میں برابر کے شریک ہیں اس لیے ان کے خلاف بھی پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔

متعلقہ تحاریر