سندھ کے ڈاکو تاوان میں خواتین مانگنے لگے، ریپ کی وڈیوز ڈارک ویب پر برائے فروخت
مغویوں کی بیگمات اور کمسن بیٹیوں کو بلاکر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کی جارہی ہیں، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کا سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں انکشاف، عدالت نے ڈاکوؤں کیخلاف کارروائی کیلیے 24 گھنٹے میں ایکشن پلان مانگ لیا

سندھ کے ڈاکو تاوان میں خواتین مانگنے لگے، کچے کےعلاقوں میں ڈاکوؤں کی جانب سے اغوا کیے گئے افراد کے گھر کی خواتین اور کم سن بچیوں کو بلاکر زیادتی کا نشانہ بنانے اور ان کی وڈیوز ڈارک ویب پر ڈالنے کا انکشا ف ہوا ہے ۔
یہ انکشاف گزشتہ روز سندھ کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کے سامنے کیا۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی: اسٹیل ٹاؤن سے لاپتہ 6 سالہ فرح کی لاش برآمد، پڑوسی قاتل نکلا
کراچی: سچل گوٹھ کی رہائشی 14سالہ سدرہ جمیل 10 سے روز سے لاپتہ
سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں امن و امان کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل زاہد مزاری نے بتایا کہ اغوا کرکے مغویوں کی کمسن بچیوں اور بیویوں کو بلاکر زیادتی کرکے فلمیں بناکر ڈارک ویب پر فروخت کی جارہی ہیں، اس کام میں بااثر افراد بھی ملوث ہیں، جو ایس ایس پی یہاں اچھا کام کرے گا اسے کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔
جن میں 13 سے 14 سرینڈر بھی کرچکے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو ڈرپوک پولیس آفیسرز ہیں یا جو ڈاکوؤں سے ملے ہوئے ہیں ان کے خلاف بھرپور کارروائی پہلے بھی کی گئی ہے اور آئندہ بھی کی جائے گی۔
10/10— Afzal Nadeem Dogar (@GeoDogar) March 2, 2023
کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ اغوا برائے تاوان صنعت بن چکی ہے، سالانہ دو ارب کا کاروبار ہوتا ہے، اگر ہم جج نہ ہوتے تو دس دن میں کلیئر کرکے بتاتے کہ ڈاکوؤں کی پشت پناہی کون کررہا ہے۔
سکھر لاڑکانہ ریجن میں اغوا برائے تاوان اور بد امنی کیس کی سماعت میں سیکریٹری داخلہ سعید منگنیجو، آئی جی سندھ غلام نبی میمن عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل زاہد مزاری نے بتایا کہ اغوا کرکے مغویوں کی کمسن بچیوں اور بیویوں کو بلاکر زیادتی کرکے فلمیں بناکر ڈارک ویب پر فروخت کی جارہی ہیں۔
اس موقع پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ عام مغوی رہائی کے بعد بتاتا ہے کہ فلاں وزیر کے پی اے نے پیسے لیکر رہائی دلوائی، آپ نے نشاندہی کرنی ہے کہ ڈاکوؤں کی سہولت کاری کون کرتا ہے، ہمارے پاس دو آپشن ہیں یا جدید ہتھیار دیں یا جوائنٹ آپریشن کریں۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ 24 گھنٹوں میں لانگ ٹرم پلان، شارٹ ٹرم پلان کے پوائنٹس لکھ کر پیش کریں۔









