پنک بس سروس کے ڈپو میں خواتین عملے کیلیے ٹوائلٹس اور ریسٹ روم نہ ہونے کا انکشاف

خواتین کنڈکٹرز فطری تقاضوں اور آرام کیلیے مساجد استعمال کرنے پر مجبور، ڈائیورز نے خواتین عملے کیلیے نامعلوم مقامات پر واقع ٹوائلٹس کو انتہائی غیر محفوظ قرار دیدیا۔

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں خاص طور پر خواتین کیلیے چلائی جانے والی پنک بس سروس  نے ملازمت پیشہ خواتین کی بڑی مشکل آسان کردی ہے۔

ورکنگ ویمن کو دفاترآمدورفت کےلیے بسوں کےدھکے نہیں کھانے پڑتے ۔محدود تعداد میں چلنے کے باوجود یہ سروس خواتین کیلیے کسی نعمت کم نہیں ہے تاہم اس بس کو چلانے والی خواتین خود بنیاد سہولتوں سے محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی کی تباہ حال سڑکوں نے پیپلز بس سروس کو ”بریک“ لگادیے

اسٹیل اور سیمنٹ کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کراچی ریڈ لائن منصوبے پر کام رک گیا

کراچی کی خاتون صحافی انیبہ ضمیر شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ پنک بسوں کے ڈپو میں خواتین عملے کیلیے ریسٹ روم کی سہولت میسر نہیں ہے۔ بس سروس کی  خواتین ارکان وقفے کے دوران آرام کیلیے مساجد استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

انیبہ ضمیر شاہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ”خواتین کیلیے پنک بس سروس ایک منفرد قسم کا احساس فراہم کرتی ہے جس میں خواتین کنڈیکٹرزآپ  کو خوش آمدید کہتی ہیں لیکن میں یہ جان  کر حیران رہ گئی بس سروس  کے ڈپو میں خواتین عملے کو آرام کرنے کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے، وہ اس مقصد کیلیے مساجد کا استعمال کرتی ہیں“۔

خاتو ن رپورٹر نےوزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیرٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن اور ایڈمنسٹریٹر  کراچی مرتضیٰ وہاب  کو مخاطب کرتے ہوئے  مزید لکھاکہ”حکام کو خواتین کو ملازمت پر کھنے سے قبل ایسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے،براہ مہربانی خواتین کا احترام  کریں“۔

ایک صارف کے سوال پر انیبہ ضمیر شاہ نے مزید لکھاکہ”جب خواتین کنڈکٹرز بس سے مسجدروانہ ہوئیں تو  ڈرائیور نے ہمیں بتایا کہ ہمارے ڈپوز میں واش رومز کی سہولت میسر نہیں ہے، خواتین کنڈکٹرز کیلیے نامعلوم مقامات پر عام واش رومز کا استعمال کرنا انتہائی غیر محفوظ و نامناسب ہے“۔

متعلقہ تحاریر