سندھ پولیس کا حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے لیے رات گئے رہائش گاہ پر چھاپہ

ترجمان رہنما پی ٹی آئی کا کہنا ہے پولیس سندھ حکومت کی ایما پر غیرقانونی حرکتیں کررہی ہے، حلیم عادل شیخ اور ان کی فیملی اور دوستوں کو حراساں کیا جارہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو دہشت گردی اور زمینوں پر قبضے کے دو مقدمات میں نامزد ہونے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے ہفتے کی رات ان کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔

گلشن معمار پولیس کے نے انسداد تجاوزات فورس کی شکایت پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ اور دیگر کے خلاف اقدام قتل ، دھمکیاں ، لوگوں کو اکسانے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ ایف آئی آر سرکاری افسر عبدالولید کے ذریعے رجسٹرڈ کرائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیب کراچی کا واٹر بورڈ میں پیٹرول و ڈیزل کی مد میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا نوٹس

سکھر کے درجنوں فلٹر پلانٹس بند، شہری بدبودار اور آلودہ پانی پینے پر مجبور

پولیس کی بھاری نفری نے ہفتے کی رات دیر گئے حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا اور ایک گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا گیا ، تاہم ضمانت کے احکامات کی جانچ پڑتال کے بعد وہاں سے چلے گئے۔

پولیس کی چھ سے زائد وینیں حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچیں تھیں۔

اس سے قبل، کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ اور دیگر تین افراد کی 50،000 روپے کے ضمانتی مچلکے عوض 21 مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی۔

پولیس حکام نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انسداد تجاوزات فورس کے ڈائریکٹر عبدالولید نے شکایت درج کرائی تھی کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ نامعلوم افراد گلشن معمار میں سرکاری زمین کے ایک حصے پر تعمیرات کر رہے ہیں۔

پولیس کے چھاپے پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے سندھ پولیس کا اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر رات گئے دوبارہ گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا۔ تاہم حلیم عادل شیخ اپنی رہائشگاہ پر موجود نہیں تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکن علی کو گرفتار کرلیا، پولیس کے ساتھ کراچی اینٹی انکروچمنٹ فورس کی نفری حلیم عادل شیخ کے گھر پہنچی تھی۔

ترجمان حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ناکامی کے بعد رات گئے پولیس کی دس موبائل نے گھر پر چھاپہ مارا۔

ترجمان کا کہنا ہے اپوزیشن لیڈر کے خلاف مقدموں کی ضمانت ہوچکی ہے، پولیس سندھ حکومت کی ایما پر غیرقانونی حرکتیں کررہی ہے، حلیم عادل شیخ اور ان کی فیملی اور دوستوں کو حراساں کیا جارہا ہے، سندھ حکومت کی ایسی حرکتیں قابل مذمت ہیں۔

دوسری جانب اینٹی انکروچمنٹ سیل کے حکام کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ نے اینٹی اینکروچمنٹ کے مقدمے میں ضمانت نہیں کرائی ، حلیم عادل شیخ گھر پر موجود نہیں تھے ، گھر سے ایک ملازم کو حراست میں لیا ہے۔

متعلقہ تحاریر