شمالی سندھ میں کاروکاری کے واقعات میں اضافہ، رواں سال 123 افراد قتل
ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 123 افراد کاروکاری کے بھینٹ چڑگئے جن میں 88 خواتین ہیں۔
شمالی سندھ خواتین کے لیے مقتل گاہ قرار ، کاروکاری کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ، رواں سال کے 6 ماہ کے دوران 88 خواتین سمیت 123 انسانی جانیں کاروکاری کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
سماجی تنظیم سندھ سھائی آرگنائزیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو کی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ "سندھ میں 6 ماہ کے دوران کاروکاری کے الزام میں 88 خواتین اور 35 مردوں سمیت 123 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔”
یہ بھی پڑھیے
قاضی احمد اسپتال میں ڈاکٹرز اور دواؤں کی کمی پر پیرا میڈیکل اسٹاف کا احتجاج
کراچی کے نوجوانوں نے ٹوٹے ہوئے پل پر کیک کاٹ کر جشن آزادی منایا
ڈاکٹر عائشہ دھاریجو کا کہنا تھا جنوری میں 21 افراد، فروری میں 24، مارچ میں 22، اپریل میں 20، مئی میں 13 اور جون میں 23 افراد کو کاروکاری کے الزام کے تحت قتل کیا گیا۔
ڈاکٹر عائشہ دھاریجو کے مطابق رواں سال کے چھ ماہ میں کارو کاری کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ دھاریجو کا کہنا تھا شمالی سندھ میں خواتین کے لیے زمین تنگ کردی گئی ہے، نام نہاد کاروکاری رسم کے تحت خواتین کو بکریوں کی طرح ذبح کیا جاتا ہے۔
پورے سندھ میں ضلع گھوٹکی میں کاروکاری کے واقعات زیادہ سامنے آئے، گھوٹکی میں 12 خواتین سمیت 18 افراد کو قتل کیا گیا، دوسرے نمبر پر ضلع کشمور ہے جس میں 11 خواتین سمیت 14 افراد کو قتل کیا گیا، تیسرے نمبر پر جیکب آباد ہے جس میں سات خواتین سمیت 13 افراد کو قتل کیا گیاہے ، شکارپور میں 7 خواتین سمیت 10 افراد، خیرپور میں 7، سکھر میں 4، اسی طرح سندھ کے دیگر اضلاع میں کارو کاری کی رسم کے تحت 66 خواتین اور مردوں سمیت مجموعی طور پر 123 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ دھاریجو کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں قبائلی تنازعات زور پکڑتے جا رہے ہیں، خاص طور پر ضلع کشمور، گھوٹکی اور شکارپور کے کچے میں سندھ کی خواتین بھگت رہی ہے ، قبائلی جھگڑوں کی خاتمے کے لئے سندھ حکومت اقدامات اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکھر بیراج سے 32 انسانی جانوں کی لاشیں ملیں، انتظامیہ نے ان کیسز کی تحقیقات کی زحمت تک نہیں کی، یہ لاشیں کہاں سے آئیں، ان کا تعلق کس ضلع سے ہے، اموات کی وجوہات کیا ہیں؟
انہوں نے کہا کہ دیہاتی اسکولوں میں تعلیم نہیں، اساتذہ نہیں، عمارت نہیں، فرنیچر نہیں، سندھ حکومت کی تعلیم کا نظام ایمرجنسی کا دعویٰ کہاں ہے ؟ دیہی لڑکیاں تعلیم کے زیور سے محروم ہیں۔
سماجی تنظیم سندھ سھائی کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو نے اپنے ممبران سہیل میمن ، رضوانہ میمن ، عبدالطیف انصاری ، مظھر چاچڑ ، اشفاق ٹانوری سمیت دیگر کے ہمراہ سکھر میں پریس کانفرنس کر کہ رواں سال 2022 کے چھ ماہ میں کارو کاری کے الزام میں قتل ہونے والے خواتین و مردوں کے اعداد و شمار میڈیا کو بتائے۔









