سندھ بینک سے منسلک کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کا ایک اور کیس سامنے آگیا
تقریباً ایک ماہ قبل سندھ کے ضلع مٹیاری میں تعینات افسر نے سعید آباد میں سندھ بینک کی برانچ سے موٹر وے منصوبے کے لیے مختص 2.1 ارب روپے سے زائد کے فنڈز نکلوا لیے تھے۔

سکھر حیدر آباد موٹر وے منصوبے میں 2.1 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے بعد سندھ بینک سے جڑا ہوا مبینہ کرپشن کا ایک اور کیس سامنے آگیا۔ بینک کے عملے کی ملی بھگت سے جعلی بھرتیوں کے نام پر سندھ بینک میں جعلی اکاؤنٹس کھولنے کا انکشاف ہوا ہے۔
سندھ لوکل بورڈ نے کرپشن کا نیا پینڈورا باکس کھولتے ہوئے سندھ بینک کو خط لکھ دیا ، سندھ کے بلدیاتی اداروں میں جعلی بھرتیوں کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کمیشن کا حیدرآباد اور کراچی میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم
سکھر حیدر آباد موٹر وے منصوبے میں 2.1ارب روپے کی مبینہ کرپشن پر ڈی سی مٹیاری گرفتار
تفصیلات سکھر ، لاڑکانہ اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی اداروں کے فنڈز سے جعلی بھرتی کیے گئے افراد کو تنخواہیں ادا کی گئیں۔ بلدیاتی کونسلز میں جعلی بھرتیوں کی سہولت کاری بینک برانچز کے عملے کے ذریعے کی گئی ہیں۔
سندھ لوکل بورڈ کے خط کے بعد کرپشن کیا چیپٹر ڈسکلوز ہوا ہے۔ سندھ لوکل بورڈ کی جانب سے سندھ بینک کے صدر کو لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ کے جو بلدیاتی ادارے ہیں ان میں مبینہ طور پر جعلی بھرتیاں کی گئی ہیں ، اسی حوالے سے بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ ان جعلی بھرتیوں کو قانونی جواز دینے کے لیے سندھ بینک کی برانچز میں اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔
خط کے متن کے مطابق جنوری 2020 سے لے کر کے اکتوبر 2022 تک تمام تر افراد کا ڈیٹا طلب کیا گیا جن کے اکاؤنٹس اس دوران کھولے گئے اور کتنی کتنی تنخواہوں کی مد میں ادائیگیاں کی گئی ہیں۔
سندھ لوکل بورڈ کی جانب سے لکھے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ اس سارے عرصے میں سندھ گورنمنٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔
خط کے متن کے مطابق سکھر ، لاڑکانہ ، میرپور خاص اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی اداروں کے فنڈز سے جعلی بھرتی کیے گئے افراد کو تنخواہوں کی مد میں کروڑوں روپے ادا کیے جاچکے ہیں۔ جبکہ میونسپل کارپوریشنز کمیٹیز اور ڈسٹرکٹ کونسلز میں بھی جعلی بھرتیوں کے حوالے سے شکایات موصول ہورہی ہیں۔ تمام تر ڈسٹرکٹ کونسلز کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ جن لوگوں کو تنخواہیں ادا کی گئی ہیں ان کا ڈیٹا بھی سندھ لوکل بورڈ کو فراہم کیا جائے۔
سندھ لوکل بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس ساری کارروائی کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ اس سب کے پیچھے کون لوگ ملوث ہیں ، اور کن کن افراد کو جعلی طور پر بھرتی کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے جو فنڈز جعلی تنخواہوں کے مد میں ادا کیے گئے ان کی ریکوری کرنا مقصود ہے کیونکہ ان فنڈز سے انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی تعمیر کرنا تھی۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں این ایچ اے نے موٹر وے کی زمین کے حصول کیلیے سندھ بینک سعید آباد برانچ کے اکاؤنٹ میں 2 ارب 70 کروڑ روپے جمع کروائے تھے، ڈی سی مٹیاری نے اے سی نصیر آباد اور برانچ منیجر کی ملی بھگت سے 2 ارب 14 کروڑ روپے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کروا لیے تھے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبشلمنٹ نے مقدمہ درج کرکے ڈی سی مٹیاری کو گرفتار کرلیا تھا۔









