12 جماعتی حکومت ناکام ترین حکومت ہے، سینیٹر مشاہد حسین سینیٹ میں پھٹ پڑے
مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین رہنما کا کہنا ہے اس حکومت کے پاس کچھ نہیں بچا ، بہتر کہ آپ انتخابات کا اعلان کریں اس سے پیشتر کہ کوئی جنرل آجائے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ گورنمنٹ آنے جانے والی چیز ہے ، یہ ویسے بھی لولی لنگڑی حکومت ہے ، ہر روز گالیاں پڑ رہی ہیں ہر روز جوتے پڑ رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہونے والے سینیٹ اجلاس کے دوران کیا۔ مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ کیا رہ گیا ہے اس حکومت کے پاس ، میرا خیال اس سے بہتر ہے کہ آپ انتخابات کا اعلان کریں اور آگے بڑھیں۔
یہ بھی پڑھیے
قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات: عمران خان 33 نشستوں پر پی ٹی آئی کے امیدوار نامزد
ان کا کہنا تھا ہمیں پاکستان کے مستقبل کے لیے سچ بولنا ہوگا ، اگر ایسا نہیں کریں گے تو ایک خلا پیدا ہو جائے گا جس کو پُر کرنے کےلیے کوئی جنرل آجائے گا یا قومی حکومت آجائے گی ، اور پھر سب روئیں گے کہ جمہوریت کی بحالی کریں۔
یہ جوحکومت ہےاس کےپاس کیابچاہے،روزگالیاں پڑرہی ہیں جوتےپڑرہےہیں اس سےتوبہتر ہےالیکشن کرائیں۔لیگی سینیٹرمشاہدحسین کی سینیٹ میں گفتگو pic.twitter.com/Sbtur9OYyW
— Ammad Yousaf (@AmmadYousaf) January 31, 2023
ن لیگ کے سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ جو اقتدار کی کشمکش ہے چاہے حزب اختلاف ہو یا حزب اقتدار ہو ، اس میں پارٹی کی کوئی بات نہیں ہے ، میں صرف پاکستان کی بات کررہا ہوں ، آج پاکستان کے مستقبل کےلیے بات کررہا ہوں ، کسی حکومت کے مستقبل کے لیے نہیں۔
کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار سینیٹر مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی چینل نیوز ون کے پروگرام "جی فار غریدہ” میں کیا ، ان کا کہنا تھا سیاستدانوں کے رابطے ختم نہیں ہونے چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کیا فرق پڑتا ہے کہ میاں شہباز شریف صاحب اگر عمران خان کو "لو لیٹر” لکھ دیتے ہیں ، ان سے پیار محبت کی باتیں کریں۔ اس قسم کے فیصلے لینے چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف “love letter” لکھیں عمران خان کو اور انہیں سیاسی قومی یکجہتی کی دعوت دیں؛ سینئر رہنما ن لیگ/چئیرمین سینیٹ ڈیفنس کمیٹی، سینیٹر مشاہد حسین سید کا مکمل جواب سنئیے۔۔۔ #GFG
@Mushahid pic.twitter.com/vEVRzwWmga
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) January 31, 2023
نواز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ 1993 میں میاں نواز شریف صاحب اور بےنظیر بھٹو کی بہت لڑائی تھی ، 1993 کے انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ بھی چرایا گیا تھا مگر جب میاں صاحب کو پتا چلا کہ بلاول بھٹو کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے تو انہوں نے فوراً فون اٹھایا اور بےنظیر کو فون ملایا اور بلاول کی خیریت دریافت کی تھی ، اس طرح سے 2013 میں جب عمران خان کو چھوٹ آئی تھی تو میاں صاحب خود عمران خان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بنی گالہ گئے۔
انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ تہذیب اور انسانیت کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔









