زرداری کو مریم کی تقریر پسند نہیں آئی، وزیراعظم کو فیض حمید اور عدلیہ کیخلاف محاذ نہ کھولنے کامشورہ

سابق صدر نے مریم نواز کی تقریر کے فوری بعد اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس پہنچ کر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔ مولانا فضل الرحمان کا بھی وزیراعظم کو فون

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کومسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر  مریم نواز کی  گزشتہ روز سرگودھا میں کی گئی جارحانہ تقریر پسند نہیں آئی۔

سابق صدر نے مریم نواز کی تقریر کے فوری بعد اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس پہنچ کر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

مفتاح اسماعیل ، شاہد خاقان اور کیپٹن صفدر کے بعد سینیٹر صابر شاہ بھی لیگی قیادت سے نالاں

نیوٹرل آج بھی اس حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں، عمران خان کا سنگین الزام

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے سرگودھا میں منعقدہ جلسہ عام میں  ن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی جانب سے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج صاحبان اور لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید کی تصاویر دکھا کر ان پر کی جانے والی تنقید پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر نے وزیراعظم کو خبردار کیا ہے کہ تنقید کی حد تک تو پھر معاملات قابو میں رہ سکتے ہیں لیکن حکومت کو سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج صاحبان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کیخلاف کسی بھی قسم کی محاذ آرائی یا انتقامی کارروائی سے باز رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ مریم نواز نے گزشتہ روز سرگودھا میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم شبہازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے  موجودہ عدلیہ کو جنرل فیض حمید کی باقیات قرار دیتے ہوئے ان کے احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔

 مریم نواز نے کہا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ میں فیض کی باقیات موجود ہیں، عمران خان ناکام ہوئے تو دو ججوں نے بچانے کا بیڑا اٹھا لیا لیکن میں شہباز شریف کو کہتی ہوں ان کی فکر نہ کریں بلکہ احتساب کریں۔

دریں اثنا گزشتہ روز مریم نواز کے سرگودھا میں جلسہ عام سے جارحانہ خطاب کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو فون  کیا۔

متعلقہ تحاریر