آئین کو ری رائٹ کرکے لاڈلے کو دوبارہ موقع دیا جارہا ہے، جاوید لطیف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما کا کہنا ہے تحریک انصاف والوں کو انتخابات کی جلدی اس لیے ہے کہ کہیں صادق و امین کا نقاب نہ اتر جائے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ایک لاڈلے کی ہر قسم کی ضرورتیں پوری کی جارہی ہیں ، آئین کو ری رائٹ کرکے لاڈلے کو دوبارہ موقع دیا گیا۔ نظریہ ضرورت کا بے دریغ استعمال ملک کے لیے نقصان دے ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر جاوید لطیف نے لاہور میں پریس کانفرنس کےدوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر طرف سیاسی ، معاشی اور اخلاقی بحران نظر آرہا ہے ، آج کہا جارہا ہے کہ ایک مقبول لیڈر الیکشن سے باہر رکھا نہیں جاسکتا۔ کیا 2018 کے انتخابات کے وقت نواز شریف ملک کے مقبول لیڈر نہیں تھے۔؟

یہ بھی پڑھیے 

حکومت نے الیکشن سے فرار کیلیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے، عمران خان

کامران خان کے الیکشن کمیشن کا فیصلہ حکومت کیلیے بھیانک قرار دینے پر مریم نواز کا ردعمل

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف والوں کو انتخابات کی جلدی اس لیے ہے کہ کہیں صادق و امین کا نقاب نہ اتر جائے۔

وفاقی وزیر جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے ججوں و جرنیلوں کی مہم جوئی سے ملک اس نہج پر پہنچ چکا ہے، جب ڈی چوک میں سپریم کورٹ فیصلے کی چھتری تلے فتنے کو آنے کی اجازت ملی اور حکم عدولی کو نوٹس ہوا تو کہا اسد عمر کو پتہ معلوم تھا مجھے نہیں حکم عدولی کا پتہ چلا ، لاڈلا کہتا نوے روز میں الیکشن ہونے چاہئیں جب آرٹیکل 63 اے کا سہارا لے کر پنجاب حکومت کو گرانے کےلئے استعمال ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ وقار دینے والا نااہل ہوگیا لیکن ووٹ شمار نہیں ہوگا تو آئین دوبارہ لکھا گیا، لاڈلے کو آئین میں ترمیم سے خواہش پوری کرنے کا موقع دیا گیا۔ بدقسمتی ہے ججوں و جرنیلوں کی مہم جوئی سے ملک اس نہج پر پہنچ چکا ہے، نظریہ ضرورت 58 میں جسٹس منیر نے مارشل لاء کو تحفظ دینے کےلئے بے دریغ استعمال کیا گیا۔

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ عمرانی فتنہ کو موقع دینے کےلئے عمرانی نظریہ دیاگیا کوئی بتائے کہ از خود نوٹس اس وقت کیا جاتاہے جب قومی ضرورت ہوتی ہے، قومی مفاد میں از خود نوٹس لیتے جاتے تو عتیقہ اوڑھو شراب پر ازخود نوٹس ہوتا گلی میں پانی پر ازخود نوٹس ہوتا ہے لیکن آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے والے اعتراف جرم کر لیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ وہ ججز بھی اعتراف جرم کر لیں جنہوں نے نواز شریف کو نااہل کیا۔ تمام جرم کے باوجود کبھی نہیں سنا فل کورٹ بناکر سپریم کورٹ پر دھبہ لگا کوئی پھانسی تو کوئی تاحیات نااہل بنا دیا گیا۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ کیسا انصاف کا ترازو کا پلڑا ہے 2002,2008میں نوازشریف نااہل ہو اور الیکشن ہوا، کیا 2023 کا الیکشن بھی رنگ سے باہر ہوں تو قبول کرلیں لیکن قبول نہیں کریں گے۔

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو غدار سیسلین مافیا کہا گیا کیا اس پر ازخود نوٹس ہوا، عمران خان  کو بدکردار ہونے اور کرپٹ ، آئین سے کھلواڑ کرنے کے باوجود وہ رجسٹرڈ صادق و امین ہے، الیکشن کی جلدی اس لئے ہے کہ کہیں عمران خان کا صادق و امین کا نقاب اتر جائے، کیا انصاف ، آئین اور مذہب اس بات کی اجازت دیتا بے گناہ کو گنہگار قرار دیدیں۔

متعلقہ تحاریر