حماد اظہر نے تحریک استحکام پاکستان کی ناکامی کے اسباب بیان کردیے
کنگز پارٹیاں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب سیاسی خلا میں زیادہ تر دیگر سیاسی جماعتوں یا رہنماؤں کو بدنام کردیا جاتا ہے یا نچلی سطح پر ان کی کوئی حمایت نہیں ہوتی، ابھی وہ موقع نہیں آیا۔ شہر،محلے، دیہات اور چھوٹے بڑے قصبات اس وقت عمران خان کی حمایت سے پُرہیں، رہنما پی ٹی آئی

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما حماد اظہر نے مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جہانگیر ترین کی قیادت مین بنائی گئی نئی کنگز پارٹی”تحریک استحکام پاکستان “کی ممکنہ ناکامی کے اسباب دلائل کے ساتھ بیان کردیے۔
حماد اظہر کا کہنا ہے کہ کچھ نہ کچھ حقیقی ووٹ بینک کی حامل 13 جماعتوں کا اتحاد عمران خان کی عوامی حمایت ختم نہیں کرسکا تو یہ بات یقین کی حد تک کہی جاسکتی ہے کہ 14ویں جماعت بھی ناکام ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے
شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کو مردہ قرار دے دیا
علی زیدی، فواد چوہدری سمیت استعفی دینے والے کئی ارکان تاحال پی ٹی آئی کے رکن ہیں ؟
حماد اظہار نے تحریک استحکام پاکستان کی ناکامی کے اسباب کو اپنے تفصیلی ٹوئٹ میں بیان کیا ہے۔انہوں نے لکھاکہ کچھ مبصرین نئی کنگز پارٹی اور 2011 کے آخر میں پی ٹی آئی کے عروج کے درمیان مماثلت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک غلط موازنہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ 30 اکتوبر 2011 کو پی ٹی آئی کے مینار پاکستان پاور شو کے بعد الیکٹیبلز پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے لیے ایک دوسرے پرچڑھ دوڑے تھے،خاص کر پنجاب میں ان کا ایک بڑا حصہ پیپلزپارٹی اور ق لیگ جیسی جماعتوں میں پھنس گیا تھا جن کا کوئی ووٹ بینک نہیں تھا۔
The new Kings party, why it wont get anywhere;
Some commentators have been at pains trying to draw parallels between the new Kings party & the rise of PTI in late 2011. Thats a false comparison. After the Oct 30th 2011 Minar-e-Pakistan power show by PTI, electables were jumping…
— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) June 9, 2023
انہوں نے لکھاکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی نچلی سطح پر حمایت کے ساتھ الیکٹیبلز نے اپنے مقامی نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر انتخابات میں حتمی معرکہ سر کرنے کا ایک موقع دیکھا، ان میں سے کسی کو بھی پی ٹی آئی میں شامل نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی نہیں دی گئی تھی۔
حماد اظہر نے مزید لکھاکہ اب اس اہم نکتے کی طرف واپس آتے ہیں کہ کیوں استحکام پاکستان پارٹی اپنے مطلوبہ اہداف تک نہیں پہنچ پائی یا حاصل نہیں کر پائی؟
انہوں نے اپنے سوال کے جوا ب میں لکھاکہ کنگز پارٹیاں اس وقت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں جب سیاسی خلا میں زیادہ تر دیگر سیاسی جماعتوں یا رہنماؤں کو بدنام کردیا جاتا ہے یا نچلی سطح سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ،ایسی صورت میں سیاسی چالیں چلنے کی کافی گنجائش ہوتی ہے،ابھی وہ موقع نہیں آیا۔ شہر،محلے، دیہات اور چھوٹے بڑے قصبات اس وقت عمران خان کی حمایت سے پُر ہیں۔
حماد اظہر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پرہیں، ان سے پہلے بانی پاکستان کے علاوہ کسی سیاسی رہنما کو اتنی گہری اور وسیع عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ عمران خان آج پاکستان کی سیاست کی وہ حتمی حقیقت ہے جسے جلد بازی میں غیر حقیقی سیاسی برتنوں میں بنائے گئے مجبور افراد کے کمزور دھڑوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔
انہوں نے کہا کہ آخر میں، کنگز پارٹی کے افتتاحی مرحلے پر ایک سرسری نظر اس کی سیاسی قسمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔ چاہے یہ حقیقی انتخاب ہو یا انتخاب کی سیاسی طور پر انجینئرڈ کوشش، کل اسٹیج پر موجود خاتون و حضرات کے درمیان ایک بھی محفوظ انتخابی نشست نہیں تھی۔
انہوں نے کہاکہ اس تقریب کا مقصد عمران خان اور عوام کو یہ پیغام دینا تھا کہ عمران خان کے قریبی ساتھیوں نے اسے چھوڑ دیا ہےیا اسے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں تاکہ الیکٹیبلز اور ووٹرزتوجہ دیں لیکن یہ ایک متروکہ کتاب سے لیاگیااسکرپٹ ہے جوریڈیوپاکستان کے زمانے یا دیہی اور کم باخبر پاکستان میں توشاید کارگررہا ہولیکن اسکے بعد سیاسی میدان نمایاں طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔
حماد اظہر نے کہاکہ ووٹرز کی سطح پر کوئی خلا نہیں ہے، یہاں تک کہ الیکٹ ایبل کا اپنا چھوٹا سا نیٹ ورک بھی عمران خان کے رجحان سے پریشان ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا سے واقف نوجوان آبادی اب پاکستانی سیاست کی کلیدی تعین کنندہ بن گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کنگز پارٹی کے اس طرح کے افتتاح کا الٹا اثر ہوا کیونکہ سوشل میڈیا اور تبصرہ نگاروں بشمول بی بی سی کے لیے لکھنے والوں نےنفسیاتی آپریشن کو ناکام قرار دیدیااور شرکا کے خستہ حال اور مجبور چہروں کا تجزیہ کیا۔ یہاں تک کہ اس نئے آلےکے سرکردہ ارکان کو بھی یقیناً اسے اپنے بپتسمہ نہیں بلکہ سیاسی گیلوٹین کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
حماد اظہر نے کہا کہ مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے لیکن عمران خان کو آج جو عوامی حمایت حاصل ہے اس کی حقیقت یقینی ہے، کم از کم کچھ حقیقی ووٹ بینک کے ساتھ 13 جماعتوں کا اتحاد اسے ختم کرنے میں ناکام رہا۔ اس طرح یہ بات کافی حد تک یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ 14ویں پارٹی بھی ناکام ہو جائے گی۔









