علیم خان نے پی ٹی آئی کی حکومت کو چلانے والے گینگ آف 5 کا انکشاف کر دیا
انہوں نے مزید کہا کہ عمران اقتدار میں رہنے کے لیے آئی ایس آئی کے سابق چیف فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔

استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان سے اپنی حمایت اس وقت واپس لے لی تھی ، جب انہیں احساس ہوا کہ عمران خان وہ نہیں ہے جو انہوں نے خود کو دکھایا تھا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ’’یہ ایسا ہی تھا جیسے کسی کا میک اپ دھونے کے بعد اس کے چہرے کو ظاہر کرنا۔‘‘
ان خیالات کا اظہار آئی پی پی کے صدر نے آج کے نیوز کے پروگرام "فیصلہ آپ کا” میں سینئر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پانچ افراد کے گینگ کے ذریعے چلائی جاتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ اس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، فرح گوگی، وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور پرنسپل سیکرٹری اعظم خان شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے
نواز شریف جلد وطن واپسی کا اعلان کریں گے، ذرائع
بلوچستان کی اہم سیاسی شخصیات کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا امکان
انہوں نے کہا کہ اس گینگ کا تعلق پاکستان کے بڑے پراپرٹی ڈویلپر سے بھی تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پراپرٹی ڈویلپر نے ضمانت دی تھی کہ فیض حمید اگلے آرمی چیف ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کا ’طویل منصوبہ‘ تھا کہ اگر وہ دوبارہ الیکشن جیت گئے تو وہ فیض حمید کو آرمی چیف بنائیں گے اور پھر اقتدار برقرار رکھنے کے لیے انہیں توسیع دیں گے۔
پی ٹی آئی کی حکومت میں کرپشن
عبدالعلیم خان نے کہا کہ عمران خان کو بزدار حکومت کے دوران کرپشن ذریعے غبن کی گئی ایک ایک پائی کا علم ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں کرپشن کے حجم کا اندازہ ہے تو انہوں نے کہا کہ ڈی سی کے تبادلے یا تعیناتی کے لیے 30 ملین روپے جبکہ کمشنر کے لیے 40 ملین روپے وصول کیے جاتے تھے۔
آئی پی پی کے صدر نے بتایا کہ جب ڈی سیز کی تعیناتی کی جاتی تھی تو انہیں بتایا جاتا تھا کہ ان کی تقرری ایک مقررہ مدت کے لیے کی گئی ہے اور اگر وہ توسیع چاہتے ہیں تو انہیں مزید رقم ادا کرنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے عمران خان کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت میں انتہا کی کرپشن ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران یا تو کسی ‘جال’ کے زیراثر کام کررہے تھے یا پھر جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے تھے۔









