زرداری کی سمجھوتے کی سیاست نے ن لیگ کا بھی بیڑا غرق کردیا
آصف زرداری کے غلط مشوروں پر عمل کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو اپنے گڑھ پنجاب میں ضمنی الیکشن میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے

سابق صدر آصف علی زرداری کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کی سیاست نے پیپلزپارٹی کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کا بھی بیڑا غرق کردیا۔
آصف علی زرداری کو ایک چالاک سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ قومی سیاست میں کب اور کہاں کون سا کارڈ کھیلنا ہے، وہیں وہ جارحانہ سیاست کے بجائےاپنے مفاہمانہ طرز عمل کے باعث اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے حوالے س بھی جانے جاتے ہیں۔
لیکن اگر 2008 کے بعد پیش آنے والے واقعات اور حقائق کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کافی مختلف اور آصف علی زرداری ایک ناکام سیاست دان کے طور پر نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پنجاب کے ضمنی الیکشن: زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو!
تحریک انصاف سے شکست، مریم نواز نے ہار قبول کرکے سر تسلیم خم کرلیا
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت کے فوری بعد آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تو اپنے ناتجربہ کار فرزند بلاول بھٹوزرداری کو اس وقت پاکستان کی سب سے مقبول اور سب سے بڑی جماعت کا سربراہ بنادیا۔
پیپلز پارٹی کو بینظیر بھٹو کی شہادت کی بدولت 2008 میں عوام کی بڑی پذیرائی حاصل تھی اور عام انتخابات میں اس نے حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کی۔ پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد آصف علی زرداری نے پاکستان کا صدر بننے کو ترجیح دی اور یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنادیا۔
آصف زرداری نے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے سامنے پہلی مرتبہ گھٹنے اس وقت ٹیکے جب انہوں ایک جراتمندانہ قدم اٹھاتے ہوئے آئی ایس آئی وزارت داخلہ کےماتحت کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا لیکن کورکمانڈرز کانفرنس کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری ہوتے ہی انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور نوٹیفیکیشن واپس لے لیا۔
خود کو ایک زرداری سب پہ بھاری کہلوانے والے سابق صدر نے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے دوسری مرتبہ ہتھیار اس وقت ڈالے جب سپریم کورٹ سے یوسف رضاگیلانی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد انہوں مخدوم شہاب الدین کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا لیکن جونہی مخدوم شہاب کا نام میڈیا پر آیااور اسٹیبلشمنٹ نے ان کے خلاف خبریں چلوائیں تو آصف زرداری نے ان کا نام واپس لے اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے راجہ پرویز اشرف
کو وزیراعظم نامزد کردیا۔

آصف علی زرداری تیسری مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کی چوکھٹ پر اس وقت سجدہ ریز ہوئے جب نواز شریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ گئے۔اس موقع پرآصف زراری نےا پنا دامن بچاتے ہوئےحسین حقانی کو میموگیٹ اسکینڈل میں پھنسادیا۔
ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اسٹیبلشمنٹ تاریخ کی کمزور ترین وکٹ پر موجود تھی لیکن آصف علی زرداری نے اس نادر موقع سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا اور ملک کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سبب بننےوالے واقعے کی کوئی شفاف تحقیقات کرائے بغیر اس پر بھی مفاہمت کی چادر ڈال دی۔
ان سب سمجھوتوں کے نتیجے میں آصف علی زرداری نے اپنی حکومت تو بچالی لیکن اپنی اور اپنی جماعت کی ساکھ گنوا بیٹھے اور صرف 4 سال کے مختصر عرصے میں پاکستان کی سب سے مقبول جماعت کو غیرمقبول ترین جماعت بنادیا ۔نتیجتاً 2013 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کا پنجاب ، خیبرپختونخوا،بلوچستان اور شہری سندھ سے عملاً خاتمہ ہوگیا اور اب پیپلزپارٹی دیہی سندھ کی بنیاد پر خود سیاست میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔
پیپلزپارٹی کی نیا ڈبونے کے بعد آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا ہے۔ سابق صدر نے عمران خان کی حکومت گرانے کی خاطر ن لیگ کا اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتا کروایا اور اسے اسٹیبلشمنٹ کے ہرجائز و ناجائز مطالبے کو ماننے پر مجبور کیا ۔
عمران خان کی حکومت کے کمزور ہونے کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو فرنٹ فٹ پر آنا چاہیے تھا لیکن آصف زرداری نے سب سے پہلے وزارت عظمیٰ کیلیے شہبازشریف کا نام لیا۔ کرپشن مقدمات کے باوجود شہباز شریف وزیراعظم اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ بنوادیا۔
آصف زداری نے ہی کراچی میں مقبولیت کھودینے والی ایم کیوایم سے مسلم لیگ ن کا اتحاد کروایا۔ آصف زرداری نے ہی ن لیگ کی حکومت سے وہ تمام مشکل معاشی فیصلے کروائےجو نہیں کرنے چاہیے تھے اور جن کا ملبہ عمران خان پر گرنا تھا ۔
آصف زرداری نے ن لیگ سے تمام غلط فیصلے کرواکے اپنے لیے توسہولتیں اور گنجائش حاصل کرلی لیکن مسلم لیگ ن کی سیاست کا بیڑا غرق کردیا۔آصف زرداری کے غلط مشوروں پر عمل کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کو اپنے گڑھ پنجاب میں ضمنی الیکشن میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔









