نواز شریف کی وطن واپسی ، اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم
ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا ہےکہ گزشتہ روز میاں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور اپنی واپسی سے متعلق عندیہ دیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی مقبولیت میں اضافے اور پے در پے کامیاب جلسوں کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے وطن واپسی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس بات انکشاف لندن میں نیوز 360 کے ذرائع نے کیا ہے۔
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی کے اعلان کے حوالے سے اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔
ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا ہےکہ گزشتہ روز میاں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور اپنی واپسی سے متعلق عندیہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
میں نے کہا تھا میرٹ پر آرمی چیف کی تعیناتی ہونی چاہیے تو میں نے کیا غلط کہا، عمران خان
آرمی چیف کی تقرری میرٹ پر ہونی چاہیے، زرداری اور شریفوں کی مرضی کا نہیں آنا چاہیے، عمران خان
ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے میاں نواز شریف سے کہا کہ آپ واپس آئیں گے تو آپ کو جیل جانا پڑے گا ، جس پر سربراہ ن لیگ نے جواب دیا کہ کوئی مسئلہ نہیں ، میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں ، مگر مجھے اپنی جماعت کی بقا کے لیے وطن واپس آنا ہی پڑے گا۔
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق نواز شریف کا کہنا تھا مجھے اپنی جماعت کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا اور آنے والے انتخابات میں پوری تیاری کے ساتھ اپنی ٹیم کو میدان میں اتارنا ہے، اس کے لیے اگر مجھے جیل بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر جاوید لطیف نے گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ نواز شریف جلد وطن واپس آرہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاناما ریفرنس میں سزا کاٹنے والے مسلم لیگ ن کے تاحیات سربراہ علاج کی غرض سے 2019 میں لندن گئے تھے اور وہ تب سے وہیں مقیم ہیں۔ مقررہ وقت پر وطن واپس نہ آنے پر عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔
جاوید لطیف کی پریس کانفرنس پر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے ابھی بہت سے مرحلے طے کرنا باقی ہیں ، اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ وطن واپسی کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے ، کیونکہ وہ تو عدالتی مفرور ہیں ، اور اگر وہ آتے ہیں تو وہ پہلے جیل جائیں گے۔ پھر اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔









