عمران خان کا فوری انتخابات کا مطالبہ ، احتجاجی مارچ سے پیچھے ہٹ گئے

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے حکومت میں بیٹھے لوگ اپنے کرپشن کیسز ختم کرانے میں لگے ہیں ، ملکی معیشت کا گراف گرتا جارہا ہے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت میں بیٹھے لوگ اپنے کرپشن کے کیسز ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، ملک کا گراف گرتا جارہا ہے۔

عوام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس دنیا سے پیسے مانگنے کے سوا کوئی کام نہیں ، حکومت پر پاکستان کے اندر یا  باہر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت پاکستان کا کارنامہ ، دیامربھاشا ڈیم کے لیے رقم جمع کم کی خرچ زیادہ کردی

فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے 150 ملین ڈالر کے وعدے، موصول صرف 38 ملین ڈالر ہوئے، رپورٹ

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا ، حکومت کہتی تھی کہ آئی ایم ایف سے پیسے ملتے ہیں معیشت مستحکم ہو جائے گی ، لیکن روپے کی قدر آج بھی گر رہی ہے ۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مانیں ، مگر اس کے باوجود آج ملک میں تاریخی مہنگائی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا الیکشن کی تاخیر کے لیے جو بھی بہانہ کریں گے نقصان پاکستان کا ہوگا۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن میں تاخیر سے ہمیں نقصان ہورہا ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ آج پاکستان کی سب سے مقبول ترین جماعت تحریک انصاف ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا حکومت میں بیٹھے لوگ ملک کا سوچنے کی بجائے اپنے کرپشن کیسز ختم کرارہے ہیں ، ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے کیسز کی بارش ہو رہی ہے۔ ہر دوسرے دن کوئی نا کوئی ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے ہمارے خلاف میڈیا کو استعمال کیا جارہا ہے ۔ ہمیں جس طرح دیوار سے لگایا جارہا ہے تو ہم بھی زیادہ دیر صبر نہیں کریں گے ۔ یہ ملک کو اسی طرح نیچے لے جاتے رہے تو ہمیں عوام کو کال دینا پڑے گی۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا الیکشن کو مجھے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ملک کی فکر کر رہا ہوں ، ملک کو دلدل سے نکالنا ہے تو شفاف انتخابات کے سوا کوئی چارہ نہیں ، شفاف انتخابات میں جتنی دیر کرتے جائیں گے بحران اتنا سنگین ہوتا جائے گا۔ جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا خوف سے معیشت مستحکم نہیں ہوگی۔ حکومت کو گرتی ہوئی معیشت کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا شہباز شریف آئے گا تو سب ٹھیک کردے گا ، 2018 میں حکومت ملی تو تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ ورثے میں ملا ، اس وقت ملک پر 20 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ تھا۔ مسئلہ بیرونی خسارے کا ہے جس کے لیے ملکی ذخائر سے پیسے دینے پڑتے ہیں ۔ ملکی ذخائر کے استعمال سے روپے کی قدر گرتی ہے اور چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر