مریم نواز کی من پسند صحافیوں سے آف دی ریکارڈ گفتگو کی وڈیو وائرل
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر عمران خان کی پریس کانفرنسز میں من پسند صحافیوں کو مدعو کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی لندن میں من پسند صحافیوں سے آف دی ریکارڈ کی گفتگو کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔
اس سے قبل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر پریس کانفرنس میں من پسند صحافیوں کو مدعو کرنے کا الزام لگانے والی مریم نواز خود بھی پسندیدہ صحافیوں کی جھرمٹ میں دوستانہ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پکڑی گئیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت نے سوشل میڈیا کی مشکیں کسنے کیلیے ایف آئی اے کو کارروائی کا اختیار دیدیا
بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقریر: رؤف صدیقی سمیت تمام ملزمان باعزت بری
وڈیو میں لندن میں مقیم پاکستانی صحافیوں کو مریم نواز سے ذاتی ملازمین کی طرح گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
من پسند صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ہی چھوڑی ہوئی نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے خود کو بہت بڑی طاقت قرار دینے لگ گیا ہے۔
ابھی تو مسلم لیگ ن کو وہ والی لیول پلیئنگ فیلڈ ملی ہی نہیں، کیونکہ ہمارے مین پلیئر تو ابھی باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔
کسی صحافی نے دوران گفتگو کہنا تھا "کافی لوگ یہ لکھ رہے ہیں شائد یہ خود چاہ رہے ہیں ان پر پابندی لگا دی جائے۔ یعنی فیس سیونگ دے دی جائے۔
اس پر مریم نواز کا کہنا تھا ایم این ایز نے کہا ہے کہ کوئی فیس سیونگ نہیں ملے گی۔
نائب صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ خود ہی کل اعلان کردیا کہ کورٹ نے کہا کہ میں ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔ کورٹ نے تو ایسا کچھ کہا ہی نہیں۔
اس پر سامنے بیٹھے ہوئے صحافی نے کہا بڑے بڑے لطیفے ہیں۔ ایک اور صحافی نے کہا کہ انہوں نے انتہا کردی ہے۔ جس پر مریم نواز نے کہنا شروع کیا کہ "میں نہیں تو ملک پر ایٹم بم گرا دو ، میں نہیں تو مارشل لاء لگا دو ، میں نہیں ہوں تو بے شک خون خرابہ ہو جائے۔
ایک صحافی نے لقمہ دیا کہ خان صاحب نے آج قائداعظم کو کینسر کروا دیا تھا ہم بچپن سے پڑھتے آرہے کہ قائداعظم کو ٹی بی کا مرض ہوا تھا۔ اس پر مریم نواز نے کہا کہ شکر ہے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ان کا علاج شوکت خانم میں ہوا تھا۔
مریم نواز کا دوران گفتگو کہنا تھا کہ انڈیا کتنی خوشیاں منا رہا ، عمران خان کے اسٹیٹمنٹس پر وہ کہہ رہے ہیں اس کو فنڈ کرنا چاہیے۔ اس پر کئی صحافیوں نے یک زباں ہوکر کہا کہ بہت زیادہ۔
ایک صحافی نے کہا "کل کسی پروگرام میں ان کا کوئی ویل نون بندہ بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا کہ "را” نے اپنے تمام آپریشنز پاکستان میں بند کردیئے ہیں۔ کیونکہ جو کچھ خان صاحب کررہے ہیں اب انہیں پیسہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ "اب کہتا ہے مجھے تو اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا کہ یہ چور ہیں ، تو جب عدالت نے ثبوت مانگے تھے تو وہاں کہہ دیتا کہ مجھے تو اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا یہ چور ہیں۔ میرے پاس تو کوئی ثبوت نہیں ہیں۔” اس پر ایک صحافی نے کہا اب پیچھے رہا کچھ نہیں سوائے ضد کے۔
ایک خاتون صحافی نے لقمہ دیا کہ "آکسفورڈ یونین میں خطاب کے دوران کہہ رہے تھے کہ جب میں نیب کو حکم دیتا تھا تو اسٹیبلشمنٹ روکتی تھی۔









