پاکستان کے نظام انصاف سے مجھے اب کوئی امید نظر نہیں آرہی، عمران خان
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ میری کردار کشی کی گئی لندن کی عدالت میں اُن کو جواب دینا ہوگا۔ عدالت میں ثابت کریں گے کہ میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔
سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ 60 فیصد کابینہ ضمانت پر ہے۔ جب چور خود کو این آر او دینے لگیں تو سمجھ جائیں ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔
ان خیالات کا اظہار چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا چوروں نے قانون میں ترامیم کرکے اپنے اوپر سے 11 سو ارب روپے کے کیسز ختم کرائے۔ شہباز شریف کے خلاف 8 ارب روپے کی ٹی ٹیز کا بھی کیس ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی نے عمر ظہور کے خلاف دبئی میں قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا
عمران خان کا کہنا تھا کہ 16 ارب کے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو سزا ہونے والی تھی۔
ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ آرمی چیف کا فیصلہ میرٹ پر ہو۔ نواز شریف نے کبھی زندگی میں فیصلے میرٹ پر نہیں کیے۔ نواز شریف کی تمام جائیدادیں ملک سے باہر ہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا ملک کے تمام مسائل کا فوری حل صاف و شفاف انتخابات میں ہیں۔ مگر یہ لوگ انتخابات کرانا نہیں چاہتے ، کیونکہ نواز شریف اور آصف زرداری کو انتخابات میں ہارنے کا خوف ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی تقرری ہو میرٹ پر ہو تاکہ ادارہ مضبوط ہو۔
ان کا کہنا تھا کوئی سپہ سالار ایسا نہیں آئے گا جو ادارے ، ریاست اور عوام کی آواز کے خلاف جائے۔
سربراہ پی ٹی آئی کا کہنا تھا ملکی معیشت گرتی جارہی ہے ، اگر قرضوں کی قسط ادا نہیں کی جائے گی تو باہر سے ڈالر آنا بند ہوجائیں گے۔ جب ملک میں ڈالر نہیں آئیں گے تو روپے کی قدر مزید گرے گی اور ہر چیز مہنگی ہوتی چلی جائے گی۔ گذشتہ دس سالوں میں شریف اور زرداری خاندان امیر ہوتے چلے گئے اور عوام غریب ہوتے چلے گئے۔ یہ لوگ جب میں اقتدار میں آئے ملک کو نقصان ہوا۔
معیشت کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرونی دنیا سمجھ رہی ہے کہ پاکستان اب قرض واپس نہیں کرسکے گا۔ ہم شفاف انتخابات چاہتے ہیں تاکہ معاشی استحکام آئے۔
توشہ خانہ کے تحائف کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا توشہ خانہ کا جو سامان فروخت کیا اس کی تمام رسیدیں موجود ہیں۔ توشہ خانہ سے متعلق جب گواہی دینے جائیں گے تو کیس ختم ہو جائے گا۔ توشہ خانہ کا معاملہ سوشل میڈیا نے بےنقاب کردیا۔ ان کی عقل پر حیران ہوں ، توشہ خانہ میں تمام ریکارڈ موجود ہیں ، نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا افسوس مجھے انصاف کے نظام سے کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ توشہ خانہ معاملے پر کیس لندن میں کروں گا۔ میری کردار کشی کی گئی لندن کی عدالت میں ان کو جواب دینا ہوگا۔ عدالت میں ثابت کریں گے کہ میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ چیف جسٹس صاحب سے دوبارہ اپیل ہے کہ ارشد شریف کے کیس میں انصاف ہونا چاہیے۔ کون تھا جس کی وجہ سے ارشد شریف کو ملک چھوڑنا پڑا۔ سپریم کورٹ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرائے۔
ان کاکہنا تھا کہ سینیٹر اعظم سواتی پر تشدد کیا گیا ، خوشی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے اعظم سواتی سے متعلق اچھے ریمارکس دیئے۔ میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کا سربراہ ہوں انصاف چاہتا ہوں۔









