مائنس الطاف حسین: گورنر سندھ ایم کیو ایم کے دھڑوں کو متحد کرنے کے مشن پر

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سینئر رہنماؤں سے ملاقات کر کے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے دھڑوں کو متحد کرنے کے لیے اپنا مشن امپوسیبل شروع کردیا ہے۔

کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے دھڑوں کو متحد کرنے کے لیے اپنا مشن امپوسیبل شروع کردیا ہے۔ ان دنوں وہ ایم کیو ایم کے ناراض رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں کرکے انہیں منانے کی سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم کے منقسم دھڑوں کو متحد کرنے کے ساتھ ساتھ مائنس الطاف حسین فارمولے پر بھی کام شروع کردیا ہے ، تاکہ صوبے کے شہری علاقوں اور صوبائی دارالحکومت کراچی میں دوبارہ ایم کیو ایم کی شان کو بحال کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے

پرویز الہیٰ کی تنبیہہ کام نہ آئی: عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا کے سامنے جنرل باجوہ پر الزامات کی یلغار

اتوار کے روز ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے گورنر ہاؤس میں کامران ٹیسوری سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے سیاسی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

پیر کے روز پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ مصطفیٰ کمال اور ایم کیو ایم بحال کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو گورنر ہاؤس طلب کیا گیا۔

فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے نے سیاسی منظر نامے پر سیرحاصل گفتگو کی اور سندھ بھر کی مہاجر برادری کو فائدہ پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

گورنر سندھ کی آج ایم کیو ایم حق پرست کے سربراہ آفاق احمد سے ملاقات کا امکان ہے۔ ملاقاتوں کی تازہ ترین سیریز نے ایم کیو ایم کے دھڑوں کو متحد کرنے کے لیے کامران ٹیسوری کی سنجیدہ کوششوں سے جوڑا جارہا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد میں سندھ لوکل گورنمنٹ (ایل جی) کے انتخابات کے دوسرے اور اہم مرحلے سے قبل سیاسی ملاقاتوں میں اضافہ کردیا گیا۔ تاہم ماضی میں سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور فاروق ستار کی جانب سے ایم کیو ایم کے دھڑوں کو متحد کرنے کی کوششیں رائیگاں گئیں تھی ، کیونکہ اس وقت بھی مائنس الطاف حسین فارمولے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

دوسری جانب خود ساختہ جلاوطن ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے بھی قومی سیاست میں واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان کے طاقتور حلقوں کو مطمئن کرنے کی مہم شروع کر دی۔

متعلقہ تحاریر