عید پر میں اور ثانیہ ایک ساتھ ہوتے تو اچھا ہوتا، شعیب ملک
دنیا کے تمام شوہروں اور بیگمات کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، بیگم عمرے پر گئیں تو میں یہاں مصروف تھا، پھر انکی بھارت میں مصروفیت تھی تو میں بیٹے کے پاس گیا، ثانیہ نے مجھے ان فالونہیں کیا،سا بق کپتان

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے کہا ہے کہ دنیا کےتمام شوہروں اور بیگمات کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، عید کے موقع پر میں اور ثانیہ ایک ساتھ ہوتے تو اچھا ہوتا۔
شعیب ملک نے عید الفطر کے موقع پر ’جیو نیوز‘ کے اسپورٹس شو ’اسکور‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے کرکٹ سمیت ذاتی زندگی سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔
یہ بھی پڑھیے
ثانیہ مرزا کی اپنے بیٹے کے ساتھ افطاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
ثانیہ مرزا عمرہ کرنے پہنچ گئیں، پرستاروں کو شعیب ملک کی فکر ستانے لگی
ایک سوال پر شعیب ملک نے کہاکہ” عید کے موقع پر میں اور ثانیہ ساتھ ہوتے تو اچھا ہوتا لیکن ان کی اپنی مصروفیات ہیں جس کی وجہ سے میں اور ثانیہ ساتھ نہیں ہی، لیکن ہمیشہ کی طرح دونوں کے درمیان پیار اور محبت موجود ہے، اس موقع پر پاکستانی کرکٹر نے اہلیہ کے لیے خصوصی پیغام میں کہا کہ میں ثانیہ کو عید مبارک بولوں گا، میں انہیں مس ضرور کرتا ہوں، عید کے دن ہم اپنے سب سے قریبی لوگوں کو ہی یاد کرتے ہیں“۔
انہوں نے بتایا کہ شادی سے قبل وہ جب کرکٹ کے سلسلے میں بیرون ملک ہوتے تھے تو والدہ اور بہن بھائیوں کو عید کے موقع پر یاد کرتے تھے اور اب شادی کے بعد وہ نہ صرف والدہ اور بہن بھائیوں بلکہ اہلیہ اور بچے کو بھی یاد کرتے ہیں۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کی اہلیہ کا تعلق دوسرے ملک سے ہے اور ان کی وہاں بھی مصروفیات ہوتی ہیں، اس لیے یہ ہر سال ممکن نہیں ہوپاتا کہ وہ تمام دن ایک ساتھ گزاریں۔
میزبان کے اس سوال پر کہ پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ کیسے ٹھیک ہوگی؟ انڈیا پاکستان آکر کھیلنے کیلیے تیار نہیں ، ثانیہ اور شعیب کردار ادا کرسکتے ہیں؟
سابق کپتان نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہمیں ساتھ میں رہنے کا اتنا وقت نہیں مل رہا۔انہوں نے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہاکہ کھیل ہمیشہ جوڑتے ہیں،ہمیں جب جب ایک دوسرے کے ملک جاکر کھیلنے کا موقع ملے اسے حاصل کرنا چاہیے،پڑوسیوں کا ایک دوسرے پر حق ہوتا ہے،میری دعا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کا سلسلہ بحال ہو،آئی سی سی کا سب سے بڑا میچ پاکستان اور بھارت کا ہی ہوتا ہے اور دیگر ممالک کے شائقین بھی اسے ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے دونوں ملکوں کے عوام دیکھتے ہیں۔
انٹرویو کے اختتام پر میزبان نے ایک مرتبہ پھر شعیب ملک سے پھر ان کی اہلیہ کے ساتھ اختلافات اورعلیحدگی کی خبروں پر سوال کیا اور بیگم کے ساتھ عمرے پر نہ جانے کی وجہ پوچھی۔
شعیب ملک نے کہا کہ”جب بیگم عمرے پر گئیں تو میں یہاں مصروف تھا پھر ان کی بھارت میں مصروفیت تھی تو میں اپنے پروگرام سے بریک لیکر بیٹے کے پاس گیا“ ۔
شعیب ملک نے انسٹاگرام پر ثانیہ مرزا کی جانب سے انہیں ان فالو کرنے کی خبرکو غلط قرار دیتے ہوئے سوال کیا” دنیا میں ایسا کون سا شادی شدہ جوڑا ہے، جن کے درمیان اختلافات نہیں ہوتے؟“
شعیب ملک نے دلیل دی کہ دنیا کی تمام بیویوں اور شوہروں کے تعلقات کے درمیان اتار چڑھاؤ آتا ہے اور ان سمیت تمام مشہور جوڑوں کے تعلقات میں بھی ایسا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں میاں بیوی اس لیے ایک ساتھ نہیں دکھائی دیے، کیوں کہ دونوں کی اپنے اپنے ممالک میں کچھ مصروفیات تھیں۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی بیٹے سے یومیہ دو بار ویڈیو کال پر بات کرتے ہیں جب کہ ان کے بیٹے کو بیڈمنٹن کھیلنے کا زیادہ شوق ہے لیکن وہ انہیں نہ تو کرکٹ کھیلنے کا کہتے ہیں اور نہ ہی ان پر ٹینس کھیلنے کا دباؤ ہے۔









