پی ایس ایل کے بائیو سکیور ببل کے لیے احتیاطی تدابیر کیا ہوں گی؟

پاکستان سے ابوظہبی پہنچنے والے دستے کو 7 روز کے سخت ترین قرنطینہ سے گزرنا ہوگا۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 6 کے بقیہ میچز کے انعقاد کے آثار بالآخر نظر آنا شروع ہوگئے ہیں اور شریک ٹیمیں ابوظہبی پہنچ کر قرنطیہ کا آغاز بھی کرچکی ہیں۔ قرنطینہ مکمل ہونے کے بعد میچز کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔

کراچی میں پاکستان سپر لیگ 6 کے صرف 14 میچز ہی ممکن ہوسکے تھے جس کے بعد کرونا کی وباء کی وجہ سے پی ایس ایل کو ملتوی کرنا پڑا تھا۔ تاہم ابھی تک پی ایس ایل 6 کے بقیہ میچز کے حتمی شیڈول کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

پی ایس ایل 6 کے بقیہ 20 میچز کا انعقاد کراچی میں ہونا تھا تاہم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے گرین سگنل نہ ملنے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ابوظہبی کے میدان کا انتخاب کرنا پڑا۔ بالآخر کچھ رکاوٹوں کے بعد ابوظہبی میں میچز کے انعقاد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گرمی میں پاکستان سپر لیگ کے انعقاد سے کھلاڑیوں کی فٹنس کو خطرات

اب تک پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 6 سے منسلک 270 افراد ابوظہبی پہنچ چکے ہیں جن میں کھلاڑی، اسپورٹنگ اسٹاف، میڈیا کریو، گراؤنڈ اسٹاف اور میڈیکل اسٹاف شامل ہیں۔ ابھی کچھ کھلاڑی اور دیگر افراد ویزوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے پاکستان میں ہی ہیں اور کسی بھی وقت ویزا ملتے ہی ابوظہبی پہنچ جائیں گے۔

اس کے علاوہ براڈ کاسٹنگ ٹیم (جس نے جنوبی افریقہ اور انڈیا سے ابوظہبی پہنچنا ہے) کو اب تک ویزے جاری نہیں ہوسکے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ سے جڑے افراد کی قسطوں میں ابوظہبی آمد کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر کسی کو پہلے اپنا قرنطینہ کا وقت پورا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منتظمین تاحال لیگ کے حتمی شیڈول کا اعلان نہیں کر پائے ہیں۔ ممکن ہے کہ کھیل کے آغاز میں مزید تاخیر ہو اور میچ کا شیڈول بھی ایسا ہوگا جسے جون میں ہی ختم کرنا پڑے گا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم
@TheRealPCB

برطانیہ کی ایک کمپنی کو ابوظہبی میں بائیو سکیور ببل بنانے کو کہا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ کمپنی کئی لیگز کے لیے یہ خدمات کامیابی سے سرانجام دے چکی ہے۔ ابوظہبی میں جو بائیو سکیور ببل بنایا جائے گا وہ کراچی میں بنائے جانے والے بائیو سکیور ببل سے مختلف ہوگا۔

پاکستان سے ابوظہبی پہنچنے والے دستے کو ابوظہبی میں 7 روز کے سخت ترین قرنطینہ سے گزرنا ہوگا جبکہ جنوبی افریقہ اور انڈیا سے آنے والے دستے (جس میں زیادہ تر براڈکاسٹنگ پر مشتمل افراد ہوں گے) کو 10 روز قرنطینہ کرنا ہوگا کیونکہ یہ وہ ممالک ہیں جو ابوظہبی کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔

 اس کے برعکس کراچی میں ہونے والی لیگ کے دوران قرنطینہ کا وقت صرف 3 روز رکھا گیا تھا۔ ابوظہبی پہنچنے والے تمام افراد کا کرونا ٹیسٹ آمد پر کیا جائے گا۔ 7 روز کے قرنطینہ کے بعد ایک اور ٹیسٹ ہوگا جس کے بعد انہیں بائیو سکیور ببل میں داخلے کی اجازت ملے گی۔

قرنطینہ کے دوران ان تمام افراد کا باہر کی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر ختم ہوگا اور کوئی بھی ان سے میل ملاپ نہیں کرسکے گا۔ انڈیا اور جنوبی افریقہ سے آنے والے افراد کو 9 اور 10 روز کرونا ٹیسٹ منفی ہونے پر ہی بائیو سکیور ببل میں داخلے کی اجازت ملے گی۔

اس کے علاوہ بائیو سکیور ببل میں روزانہ کی بنیاد پر تمام افراد کا طبی معائنہ کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ انہیں کرونا کی وباء کی کوئی علامت تو نہیں ہے۔ اگر کسی ایک فرد میں بھی کرونا کی وباء کی علامت نظر آتی ہے تو اسے فوری طور پر دیگر افراد سے علیحدہ کر کے 10 روز کے لیے الگ فلور پر قرنطینہ کردیا جائے گا۔ جس کے 10 روز کے بعد ہی اس کے لیے بائیو سکیور ببل میں واپسی ممکن ہوسکے گی۔

پی ایس ایل
PSL Twitter

سخت شیڈول کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی کھلاڑی کے ساتھ یہ ہوتا ہے تو اس کے لیے کھیل میں واپسی کے تمام دروازے تقریباً بند ہی ہوجائیں گے۔ ابوظہبی میں ایک نہیں بلکہ 3 بائیو سکیور ببل بنائے گئے ہیں۔ بائیو سکیور ببل اے میں کھلاڑی، اسپورٹنگ اسٹاف، میچ آفیشلز، ہوٹل اسٹاف اور پی سی بی آفیشلز شامل ہوں گے۔

 بائیو سکیور ببل بی (جو مختلف ہوٹل پر قائم کیا جائے گا) میں براڈکاسٹنگ پروڈکشن سے منسلک افراد اور ایونٹ مینجمنٹ کے افراد شامل ہوں گے۔ جبکہ بائیو سکیور ببل سی میں گراؤنڈ سٹاف کو شامل کیا گیا ہے۔

کراچی میں جب بائیو سکیور ببل قائم کیا گیا تھا تو اس میں کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی سٹیڈیم آتے جاتے تھے تاہم ابوظہبی میں کسی بھی کھلاڑی یا فرد کو اہل خانہ کو ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

کراچی میں حکومت نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 6 کے میچز کے دوران 20 فیصد شائقین کو میدان میں آنے کی اجازت دی تھی جو بعد میں 50 فیصد تک بڑھا دی گئی تھی۔ جبکہ اعلان کیا گیا تھا کہ ایک ہفتے بعد 75 فیصد شائقین کو آنے کی اجازت دی جائے گی مگر اس سے پہلے ہی ٹورنامنٹ کرونا کی وباء کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا۔ اب ابوظہبی میں میچز کے دوران شائقین کو میدان میں آنے کی کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر