مغربی خواتین کھلاڑیوں کا مختصر لباس پہننے سے انکار
جرمنی ، ناروے اور برطانوی خواتین کھلاڑیوں نے روایتوں کو توڑتے ہوئے بین الاقوامی مقابلوں میں مکمل لباس پہننے کو ترجیح دی ہے۔
ہینڈ بال یورپین چیمپئن شپ کے دوران بیچ پر والی بال گیم کے دوران مغربی خواتین کو مختصر لباس نہ پہننے کے جرم پر جرمانہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی پیرا ایتھلیٹ خاتون کو بتایا گیا کہ ان کا لباس اتنا مختصر ہے کہ جس میں سے سب کچھ دکھائی دیتا ہے۔ ادھر جرمنی کی جمناسٹک کی کھلاڑی نے روایت کو توڑتے ہوئے ٹوکیو اولمپکس کے مقابلوں میں مکمل لباس پہن کر حصہ لیا تھا۔
یورپین چیمپئن شپ میں ناروے کی خواتین کھلاڑیوں کی جانب سے بیچ پر والی بال کے کھیل کے دوران "بکنی” پہننے سے انکار پر مقابلے کے منتظمین نے 1500 پاؤنڈ جرمانہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی اولمپئینز کی حوصلہ افزائی سے زیادہ حوصلہ شکنی
ناروے کی والی بال ٹیم کی کھلاڑیوں نے اعتراض کیا تھا کہ انہیں جو لباس پہننے کے لیے دیا گیا وہ انتہائی مختصر اور غیرآرام دہ تھا جس کی وجہ سے انہوں نے پہننے سے انکار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیے ہم نے اسپین کے خلاف شارٹس پہننے کو ترجیح دی تھی۔
مقابلے سے نارویجن کھلاڑیوں نے انٹرنیشنل ہیئڈ بال فیڈریشن سے رجوع اور شارٹس پہننے کی درخواست کی۔
تاہم منتظمین نے نہ صرف درخواست مسترر کردی بلکہ شارٹس کے انتخاب پر ہر کھلاڑی کو 177 پاؤنڈ جرمانہ کرنے کا عندیہ بھی دے ڈالا۔
یورپی ہینڈ بال فیڈریشن (ای ایچ ایف) کے مطابق نارویجن کھلاڑیوں کو جرمانہ مقابلے کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر کیا گیا ہے۔
جرمانے کے بعد سوشل میڈیا پر فیڈریشن کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر لمبے بالوں والے مرد ہوادار بنیان اور شارٹس پہن سکتے ہیں جو ان کی رانوں تک آجاتے ہیں تو پھر خواتین کیوں نہیں پہن سکتیں ؟
Vi er kjempestolte over disse jentene som under EM hevet stemmen og ga beskjed om at NOK ER NOK! Vi i NHF står bak dere og støtter dere. Sammen skal vi fortsette å kjempe for å endre regelverket for bekledning, slik at spillerne får spille i det tøyet de er komfortable med! pic.twitter.com/MmfiMtVz2Q
— Norges Håndballforbund (@NORhandball) July 20, 2021
دوسری طرف ناروے کی ہینڈ بال فیڈریشن کے سربراہ کیئر گیئر لیو بھی خواتین کھلاڑیوں کے حق میں بول پڑی ہیں ، انہوں نے جرمانے کی ادائیگی پر اتفاق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” خواتین کھلاڑیوں کو ایسا لباس پہننا چاہیے جس میں وہ خود کو آرام دہ محسوس کریں۔”
ناروے کے وزیر ثقافت و کھیل نے جرمانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ” یہ مکمل طور پر مضحکہ خیز لگ رہا ہے ، بین الاقوامی کھیلوں میں چھوٹی سوچ کے رویوں کی اشد ضرورت ہے۔”
دوسری جانب برطانوی پیرا ایتھلیٹ اور ڈبل ورلڈ چیمپئن اولیویا برین نے انگلش چیمپئن شپ میں حصہ لینے کے دوران اپنے لباس کو فحش اور غیر آرام دہ قرار دیتے ہوئے پہننے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے لباس کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھیں۔
جرمنی کی جمناسٹک کی کھلاڑی نے ٹوکیو اولمپکس کے مقابلوں میں روایت کو توڑتے ہوئے مکمل لباس زیب تن کرکے حصہ لیا ہے۔










