کون سا شو دیکھ کر رمیز راجہ کا دل اسکرین توڑنے کو چاہتا ہے؟
بھٹی صاحب میں نے آپ کا شو دیکھ کر برداشت کرنا سیکھا ہے، آپ کا شو دیکھ کرچل چاہتا ہے ٹی وی اسکرین توڑ دوں لیکن پھر میں لمبی لمبی سانسیں لیتا ہوں، چیئرمین پی سی بی

چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران سینئر اسپورٹس رپورٹر پر برس پڑے۔رمیز راجہ کی پریس کانفرنس میں ریکارڈ کیا گیا ایک آڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ کی پریس کانفرنس کے دوران سینئر اسپورٹس رپورٹر عبدالماجد بھٹی نے برداشت سے متعلق سوال کرنا چاہا تو رمیز راجہ برداشت کا دامن چھوڑ بیٹھے اور انہیں کھری کھری سنادی۔
یہ بھی پڑھیے
چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کا استعفیٰ نہ دینے کا اعلان
رمیزراجہ اور برٹش ہائی کمشنر کا انگلش ٹیم کے دورہ پاکستان کو یادگار بنانے پر اتفاق
رمیز راجہ نے کہا کہ بھٹی صاحب میں نے آپ کا شو دیکھ کر برداشت کرنا سیکھا ہے، آپ کا شو دیکھ کرچل چاہتا ہے ٹی وی اسکرین توڑ دوں لیکن پھر میں لمبی لمبی سانسیں لیتا ہوں۔
میرا دل چاہتا ہے ٹی وی کی سکرین توڑ دوں ،رمیز راجا pic.twitter.com/SHskM2AwTI
— Anas Saeed (@anussaeed1) June 29, 2022
پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پی سی بی نے نیو ٹی وی کے ایک اور اسپورٹس رپورٹر زاہد غفار کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیشنل اسٹیڈیم میں آج @iramizraja نے صحافیوں کے ساتھ جو کیا اس کے بعد یہ سیلفی تو بنتی تھی!👏👏👏 pic.twitter.com/xJSgK4pGie
— Abdul Majid Bhatti (@bhattimajid) June 29, 2022
زاہد غفار نے کراچی اور لاہور کے کرکٹرز میں امتیازی رویے پر سوال اٹھایا تو چیئرمین پی سی بی نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے کسی بھی کھلاڑی کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں سوچنا بھی منفی انداز ہے۔
No Karachi Lahore debate!! This is what cricket journalists need to understand! A journalist made Chairman PCB Ramiz Raja angry! pic.twitter.com/onxI9HIMiR
— Arfa Feroz Zake (@ArfaSays_) June 29, 2022
چیئرمین پی سی بی نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں اپنی پریس کانفرنس میں پی سی بی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے مستقبل کے حوالے سے کسی غیر یقینی صورتحال کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ وہ کہیں نہیں جارہے۔ انہوں نے صحافیوں پر طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کچھ سرخیاں بنانے کے لیے بے یقینی پیدا کر رہے تھے لیکن وہ اسٹامپ پیپر پر لکھنے کو تیار تھے کہ وہ کہیں نہیں جا رہے۔









