موبائل فون صارفین کو مستقبل میں براہ راست سیٹلائٹ سے انٹرنیٹ تک رسائی ملے گی
ٹیکنالوجی کمپنی میڈیا ٹیک اور جرمن کمپنی روہدے اینڈ شوارز نے دنیا کے پہلے نان ٹیریسٹریل نیٹ ورک(5G NTN) سیٹلائٹ موبائل فون لیبارٹری کنکشن کا ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کرلیے ہیں، صارفین اسمارٹ فونز میں سرفنگ کرنے کے لیے براہ راست سیٹلائٹ سگنل استعمال کر سکتے ہیں

موبائل فون صارفین کو مستقبل میں براہ راست سیٹلائٹ سے انٹرنیٹ تک رسائی ملے گی۔ میڈیا ٹیک نامی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دنیا کا پہلا نان ٹیریسٹریل نیٹ ورک(5G NTN) سیٹلائٹ موبائل فون لیبارٹری کنکشن کا ٹیسٹ مکمل کر لیا ہے۔
مشہور و معروف ٹیکنالوجی کمپنی میڈیا ٹیک اورجرمن کمپنی روہدے اینڈ شوارز دنیا کے پہلے نان ٹیریسٹریل نیٹ ورک(5G NTN) سیٹلائٹ موبائل فون لیبارٹری کنکشن کا ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کرلیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں فائیو جی (5G) کی نیلامی میں تاخیر سے 3 ارب ڈالر نقصان کا اندیشہ
میڈیا ٹیک کی نئی چپ اسمارٹ فونز کو سیٹلائٹ سگنلز کے ذریعے براہ راست انٹرنیٹ تک رسائی کی اجازت دیتی ہے۔ مستقبل کے 5G موبائل فونز کو براہ راست سیٹلائٹ فون کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
3GPP Rel-17 تفصیلات میں بیان کردہ افعال اور طریقہ کار کی بنیاد پر میڈیا ٹیک کے ذریعے نان ٹیریسٹریل نیٹ ورک(5G NTN)سیٹلائٹ نیٹ ورک فنکشنز سے لیس موبائل کمیونیکیشن چپ کو بینچ مارک کے طور پر استعمال کیا گیا۔
5G NTN سیٹلائٹ نیٹ ورک موبائل فونز کے لیے مکمل سگنل کوریج فراہم کر سکتا ہے جبکہ یہ ان علاقوں میں کام کر سکتا ہے جہاں عام زمینی نیٹ ورکس کی سروسز میسر نہیں ہو سکتی ہیں ۔
صارفین اسمارٹ فونز میں سرفنگ کرنے کے لیے براہ راست سیٹلائٹ سگنل استعمال کر سکتے ہیں۔ موجودہ زمینی نیٹ ورک اور سیٹلائٹ نیٹ ورک کے وسائل کے ساتھ ملکر یہ ایک وائرلیس نیٹ ورک بنائے گا ۔
وائرلیس انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز ہیں لیکن سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ صارفین حیران ہیں کہ عام سمارٹ فون کب اس طرح کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔









