جدہ میں فرانسیسی ریسٹورنٹ نے باحجاب خواتین کا داخلہ بند کردیا

سعودی عرب کا قومی لباس کندورا پہننے والے مردوں پر بھی پابندی، ریسٹورنٹ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں ایک فرانسیسی ریسٹورنٹ نے باحجاب خواتین کے داخلے پر پابندی لگا دی جس  پر  ریسٹورنٹ کے صارفین اور سعودی شہریوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مشہور فرانسیسی ریسٹورنٹ Bagatelle  نے گزشتہ ہفتے جدہ میں اپنی  برانچز میں  حجاب اور عبایہ پہننے والی خواتین کے داخلے پر پابندی لگادی  ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

نبی کریمﷺ کے خلاف متنازعہ ریمارکس: نیشنل کانفرنس کا نوپور شرکا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

فلسطینی طالبہ کا امریکی وزیرخارجہ سے مصافحے سے انکار

گلف نیوز  کے مطابق پابندی کا اطلاق  سعودی عرب کا قومی لباس  کندورا پہننے والے مردوں پر بھی ہوگا۔پابندی کے حوالے سے خبریں میڈیا کی زینت بننے کے بعد   ریسٹورنٹ کوسوشل میڈیا پر سعودی شہریوں کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔

سوشل میڈیا صارف امیرہ القحطانی  نے ریسٹورنٹ کے فیس بک پیج پرتبصرے میں لکھا کہ یہ ریسٹورنٹ کسی اسٹار کا مستحق نہیں ہے کیونکہ یہ خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت دینے سے انکار کرتا ہے، اور مردوں کے لیے سعودی لباس سے انکار کرتا ہے،انہیں  جدہ سے نکال دیا جائے، وہ ہمارے مذہب کا احترام نہیں کرتے اور اس پر  مجھے بہت غصہ آتا ہے۔

ایک اور صارف  طارق ال ایبلش نے کہا کہ انہیں جدہ سے بے دخل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ہمارے مذہب اور روایت کا احترام نہیں کرتے۔

ریستوراں یا سعودی حکام کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل یا تبصرہ نہیں آیا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی ریسٹورنٹ  نے خلیج میں حجابی خواتین کو داخلے سے منع کیا ہو۔ دو ماہ قبل بحرین  میں  بھی ایک مشہور بھارتی  ریسٹورنٹ نے باحجاب خاتون کو داخلےسے منع کردیا تھا جس پر بحرین کی حکومت نے اس ریسٹورنٹ کو بند کردیا تھا۔

متعلقہ تحاریر