پاکستان کا موقف مسترد؟ دبئی کامتنازعہ علاقے مقبوضہ کشمیر میں بڑی سرمایہ کاری کا اعلان

متحدہ عرب امارات  کا ایمار گروپ مقبوضہ کشمیر میں مال آف سری نگر تعمیر کرے گا جس کی لاگت  60 ملین ڈالر ہے جبکہ دبئی بیسڈ "لولو گروپ" بھی متنازعہ علاقے میں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کرنے جا رہا ہے

متحدہ عرب امارات کی رئیل اسٹیٹ کمپنی ایمار پراپرٹیز نے 60 ملین ڈالر کی لاگت سے مقبوضہ جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر شاپنگ کمپلیکس تعمیر کرے گی  جس میں دفاتر بھی شامل ہونگے ۔

متحدہ عرب امارات  کا ایمار گروپ بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں 60 ملین ڈالر کی لاگت سے کمپلیکس تعمیر کرے گا جس میں شاپنگ مال اور دفاتر ہونگے ۔

یہ بھی پڑھیے

ایمار گروپ  کے کراچی میں بنائے گئے پروجیکٹ کچے مکان ثابت ہوئے

کٹھ پتلی جموں و کشمیر حکومت نے کہا کہ ایمار کا پروجیکٹ، جسے ‘مال آف سری نگر’  کا نام دیا گیا ہے، مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پہلی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایمار پراپرٹیز انڈیا کے سی ای او امیت جین نے مال آف سری نگر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کمپلیکس میں 500 دکانیں ہونگی جس سے 8 ہزار  ملازمتیں پیدا ہونگی ۔

امیت جین کا کہنا تھا کہ یہ ابھی شروعات ہے، ہمیں لوگوں کو متاثر کرنا چاہیے، لوگوں کو ہماری پیروی کرنے کی خواہش کرنی چاہیے۔ مال آف سری نگر 10 لاکھ مربع فٹ پر تعمیر کی جائے گا ۔

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ایمار گروپ سری نگر میں میگا مال اورایک آئی ٹی ٹاورتعمیر کرے گا، انہیں آئی ٹی ٹاور کے لیے جموں میں زمین فراہم کردی گئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق اماراتی، بھارتی ملٹی نیشنل کمپنی” لولو گروپ”نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔لولو گروپ  کشمیر میں ہائپر مال آف سری نگر تعمیر کرے گا ۔

یہ بھی پڑھیے

بھارتی حکومت کا مقبوضہ جموں و کشمیر سے مرحلہ وار فوج کے انخلاء پر غور

واضح رہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جسے اقوام متحدہ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا ہے ۔

کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ 1947ء، دوسری 1965ء اور تیسری 1971ء اور آخری چوتھی 1999ء میں لڑی گئی۔

مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے پر بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ جس میں اکثر پاکستانی شہری آبادی  بھارتی فوج کے ظلم کا نشانہ بنتی رہی ہے۔

متعلقہ تحاریر