فرانس میں پینشن اصلاحات کے خلاف پرتشدد مظاہرے؛ صدر کو مہنگی گھڑی پہننے پر تنقید کا سامنا
حکومت کی پینشن اصلاحات کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور کچڑے کے ڈرمز اور بس اسٹاپس کو نذر آتش کردیا، پولیس سے جھڑپ میں سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ میکرون کو کروڑوں روپے کی گھڑی پہننے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا

فرانس میں پیشن اصلاحات کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل ائے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کچڑے کے ڈبوں کو نذر آتش کردیا جبکہ پولیس سے جھڑپوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
فرانس میں پینشن میں اصلاحات کے خلاف احتجاج نے پر تشدد مظاہروں کا روپ دھارلیا۔ لاکھوں مظاہرین نے سڑکوں پر رکھے گئے کچڑے کے ڈرمز جلا دیئے جبکہ پولیس سے جھڑپوں میں سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ۔
یہ بھی پڑھیے
‘مبارک رمضان’ لندن کی تاریخ میں پہلی بار پکاڈیلی سرکس کو روشن کردیا گیا
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مشتعل مظاہرین نے ڈسٹ بینز اور بس اسٹاپس کو نقسان پہنچایا جنہیں روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے جبکہ مظاہرین نے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا۔
دو طرفہ جھڑپوں میں 200 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جس کے بعد پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے ۔
فرانس کی وزیر اعظم الزبتھ بورن نے پر تشدد مظاہروں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین کو فوری طور پر پر تشدد مظاہروں کے انسداد کا حکم دیا ہے ۔
دوسری جانب ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران فرانس کے صدر ایماننویل میکرون اپنی کلائی میں پہنی مہنگی گھڑی اتار دی ۔ گھڑی کی مالیت 80 ہزار یورو ہے جوکہ 2 کروڑ 50 لاکھ روپےبنتی ہے۔
Macron while asking for sacrifices from the French people realizes he is wearing a € 80,000 watch and like a magician makes it disappear under the table. Unworthy. pic.twitter.com/zRiQWFAR1M
— RadioGenova (@RadioGenova) March 24, 2023
دوران انٹرویو فرانسیسی صدر نے محسو کیا کہ وہ ملک کے مالی بحران پر بات کررہے ہیں ایسے میں اتنی مہنگی گھڑی کا تاثر ان کے حق میں مشکل ثابت ہوگا جس پر انہوں نے گھڑی اتار دی۔
صدر ایمانویل میکرون کی دوران انٹروہو گھڑی اتارنے کی وڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے۔ میکرون کے مخالفین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ امیروں کے صدر ہیں اور انتہائی مہنگے برانڈز کے شوقین بھی ہیں۔









