چین اور پاکستان کی مخالفت کے باوجود مودی سرکار جی 20 سمٹ سری نگر میں کرانے پر بضد
اروناچل میں جی 20 اجلاس میں تقریباً 50 مندوبین نے شرکت کی تھی اور مودی حکومت سری نگر میں ہونے والے پروگرام کے بارے میں اسی طرح کے ردعمل کی توقع کر رہی ہے۔
نریندر مودی سرکار نے چین اور پاکستان کی مخالفت کے باوجود جی 20 ممالک کا اجلاس مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت پاکستان کو موقف تھا چونکہ مقبوضہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اس لیے اجلاس وہاں نہیں ہونا چاہیے اور چین کی حکومت نے اس موقف کی تائید کی تھی۔
حکومت پاکستان نے جی 20 ممالک میں شامل اپنے اتحادیوں، جیسے سعودی عرب، ترکی اور چین سے سری نگر میں ہونے والی میٹنگ کو روکنے کے لیے لابنگ کی تھی، بیجنگ نے گروپ کی میٹنگ کے لیے گزشتہ ماہ اروناچل پردیش سمیت مزید 11 مقامات کے نام تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
آنجہانی ملکہ اور شاہ چارلس نے تحفے میں ملے 40 گھوڑے بیچ کر 20 لاکھ پاؤنڈ کمائے
اسرائیل کے جنوبی لبنان اور غزہ میں فضائی حملے، مغربی کنارے میں 2 یہودی خواتین قتل
بھارت نے جمعے کے روز اپنے جی 20 کیلنڈر کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاحت پر ورکنگ گروپ کی میٹنگ 22 سے 24 مئی کو ہوگی۔ چین ممکنہ طور پر سری نگر میں ہونےوالے اجلاس کی مخالفت کی تھی اور اجلاس کو اروناچل میں کرانے پر اعتراض کیا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سری نگر میں ہونے والی میٹنگ میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ ہی کبھی اس حوالےسے گفتگو ہوئی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ "گذشتہ سال میٹنگ کے لیے تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ G20 اجلاس تمام 28 ریاستوں اور 8 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کہیں بھی ہوسکتا تھا۔ اروناچل پردیش اور جموں و کشمیر دونوں ہندوستان کے اٹوٹ انگ ہیں۔‘‘
چین کی جانب سے اروناچل میں جگہوں کا نام تبدیل کرنے پر بھارت کے اعتراضات کے بعد، بیجنگ نے علاقے پر ‘خودمختاری’ کا دعویٰ کیا ہے جب بھارت نے اروناچل پردیش کے مقامات کا نام تبدیل کرنے کی چین کی کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ہے، بیجنگ نے منگل کو اس علاقے پر اپنی "خودمختاری” کا دعویٰ کیاتھا۔
ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے اعلان کیا تھا کہ "زنگنان (اروناچل پردیش) چین کی سرزمین کا حصہ ہے۔
اروناچل میں جی 20 اجلاس میں تقریباً 50 مندوبین نے شرکت کی تھی اور مودی حکومت سری نگر میں ہونے والے پروگرام کے بارے میں اسی طرح کے ردعمل کی توقع کر رہی ہے ، جو بھارت کے لیے وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پاکستان کے دعوؤں کی تردید کرنے کا ایک موقع ہوگا۔
نریندر مودی حکومت اس ہائی پروفائل ایونٹ کے ذریعے دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کرے گی کہ یونین کے زیر انتظام علاقے میں حالات معمول پر آگئے ہیں۔ چین نے گزشتہ سال مجوزہ میٹنگ پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس نے "متعلقہ فریقین” سے کہا تھا کہ وہ کوئی یکطرفہ اقدام کرکے صورتحال کو مزید پیچیدہ نہ کریں۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق آئندہ چند مہینوں میں چین کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ ایس سی او اجلاسوں کے لیے جلد ہی ہندوستان کا دورہ کریں گے۔ ہندوستان اس وقت چین، روس اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جولائی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی تاریخوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر چینی صدر شی جن پنگ میٹنگ کے لیے آتے ہیں، تو یہ اپریل 2020 میں مشرقی لداخ میں جاری فوجی تصادم کے بعد سے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی پہلی دو طرفہ ملاقات ہوگی۔









