جسٹس (ر) مارکنڈے نے جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ کو عدالتی وقار کے خلاف قرار دے دیا

جسٹس (ر) مارکنڈے کاٹیجو کا کہنا ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ سیاسی تنازعات کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا چاہیے اور وہ بھول گئے ہیں کہ کچھ سیاسی تنازعات خالصتاً سیاسی نہیں ہوتے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹیجو نے کہا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے التوا کے خلاف درخواست کے سلسلے میں اپنے چیف جسٹس کے خلاف 26 صفحات پر مشتمل تفصیلی نوٹ جاری کر کے، سراسر ناانصافی اور بے ضابطگی کا ارتکاب کیا ہے۔

عدلیہ کے ججوں کے درمیان ایک دیرینہ ، غیرتحریری اور بہتر اعتماد پر منتج معاہدہ ہوتا ہے، تاہم جسٹس اطہر من اللہ نے اختلافی نوٹ لکھ کر باہمی اعتماد (کنونشن) کی کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے ضبط نفس کی توقع ہوتی ہے مگر اس نوٹ نے اس ضبط نفس کی کمی کو ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

چین اور پاکستان کی مخالفت کے باوجود مودی سرکار جی 20 سمٹ سری نگر میں کرانے پر بضد

آنجہانی ملکہ اور شاہ چارلس نے تحفے میں ملے 40 گھوڑے بیچ کر 20 لاکھ پاؤنڈ کمائے

جسٹس مارکنڈے نے اس سلسلے میں عدالتی تاریخ کے ایک واقعے ک ذکر کیا ہے۔

جسٹس (ر) مارکنڈے کاٹیجو کے مطابق "برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے ایک جج لارڈ اٹکنز نے Liversidge vs Anderson (1942) A.C.206 میں ایک مشہور اختلافی فیصلہ دیا تھا ، تاہم ان کے ایک ساتھی جج لارڈ موگم نے اختلافی فیصلہ لکھنے پر لارڈ اٹکنز پر تنقید کی۔ اس غیر مہذب رویے کے لیے لارڈ موگم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں انگلینڈ میں مزید کوئی عدالتی ذمہ داری نہیں دی گئی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ سیاسی تنازعات کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا چاہیے اور عدلیہ کو ایسے کیسز نہیں سننے چاہئیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ کچھ سیاسی تنازعات خالصتاً سیاسی نہیں ہوتے بلکہ سیاسی قانونی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کا فیصلہ عدالت کو ہی کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کے سامنے یہ مقدمہ اسی نوعیت کا تھا۔ اس نے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 224(2) کے نفاذ کا مطالبہ کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے 90 دنوں کے اندر صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائے جائیں۔ پنجاب اسمبلی 18 جنوری کو تحلیل کر دی گئی تھی، اس لیے انتخابات 18 اپریل تک ہونے چاہیے تھے، لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے عمل سے ظاہر کیا ہے کہ اس نے کسی دباؤ کے تحت 8 اکتوبر انتخابات کو ملتوی کر دیا تھا، جو کہ آرٹیکل 224(2) کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

کیا عدالت کو آرٹیکل 224(2) کا نفاذ نہیں کرنا چاہیے تھا اور کیا خاموش رہنا چاہیے تھا؟ جسٹس اطہر من اللہ کی منطق یہ ہے کہ چونکہ یہ سیاسی معاملہ ہے اسے حل کرنے کے لیے پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ پر حکمران PDM کا غلبہ ہے جو قبل از وقت انتخابات نہیں چاہتی، کیونکہ اسے عمران خان کی پی ٹی آئی (جیسا کہ تمام رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے) شکست دے گی۔ لہٰذا پی ڈی ایم عدالت کی مداخلت کے بغیر آرٹیکل 224(2) غیر نافذ ہی چاہتی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کہتے ہیں کہ ایسا فیصلہ دینے سے عدالت خسارے رہی ہے۔ لیکن کس طرح؟ کیا آئین کے نفاذ سے عدالت ہار جاتی ہے؟ اس کے برعکس، میری رائے میں، اس کا وقار اور بلند ہوتا ہے۔

متعلقہ تحاریر