بحیرہ اوقیانوس میں تارکین وطن کی ایک اور کشی ڈوب گئی، 35 اموات کا خدشہ
تارکین وطن کی کشتی مراکش سے ہسپانوی جزیرے کینری آئی لینڈ جارہی تھی، مراکش کی بحریہ نے 24 افراد کو بچالیا، بچے سمیت 2 افراد کی لاشیں برآمد، سمندر میں پھنسی ایک اور کشتی سے 51 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا

بحیرہ اوقیانوس میں یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی ایک اور کشتی حادثے کا شکار ہوگئی۔حادثے میں کم ازکم 35 اموات کا خدشہ ہے۔
ربڑ کی ٹیوب میں ہوا بھر کر بنائی جانے والی ہلکے وزن کی کشتی میں تقریباً 60 تارکین وطن سوار تھے جو بحیرہ اوقیانوس میں واقع ہسپانوی جزیرے کینری جانے کی کوشش کررہے تھے، حادثہ منگل کی صبح پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیے
کشتی حادثے میں یونانی ساحلی محافظوں کی ظالمانہ غلطی کا انکشاف، مظاہروں میں شدت
یونان کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی زیادہ اموات کیوں ہوئیں؟ گارجین اخبار کے ہوشربا انکشافات
برطانوی اخبار گارجین کے مطابق ہسپانوی این جی او کا کہنا ہے کہ کشتی میں 60 افراد سوار تھے جن میں سے 39لاپتہ ہیں۔مہاجرین کیلیے کام کرنے والی ایک اور این جی او کے مطابق کشتی میں 59 افراد سوار تھے جن میں سے 35 لاپتہ ہیں۔اسپین کی میری ٹائم ریسکیو سروس کا کہنا ہے کہ مراکشی حکام نے 24 افراد کو بچایا جبکہ ہسپانوی ہیلی کاپٹر نے ملنے والی 2 لاشوں میں سے ایک بچے کی لاش کو ہسپانوی ایئرپورٹ منتقل کیا ہے۔
ہسپانوی میری ٹائم ریسکیو سروس کی ترجمان نے کہاکہ”ہمیں لاپتہ افراد کی حتمی تعداد نہیں معلوم لیکن کشتی میں کم ازکم 60 افراد سوار تھے“۔انہوں نے بتایاکہ”بدھ کی صبح کینری جزائر میں لانزاروٹ کے مشرقی ساحل سے سات میل دور مشکل میں پڑ نے ایک اور کشتی سے 51افراد کو بچالیاگیا“۔
مہاجرین کیلیے کام کرنے والی 2 این جی اوز نے ہسپانوی اور مراکشی حکام پر الزام لگایا کہ وہ کشتی میں سوار افراد کی مدد کے لیے تیز ترین حرکت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
واکنگ بارڈرز کی سربراہ ہیلینا مالینو نے کہا کہ” کسی بھی وقت ڈوبنے کے خدشے سے دوچار ایک غیر مستحکم کشتی پر6خواتین اور ایک بچے سمیت 60 افراد 12 گھنٹے سے زائد وقت تک مدد کا انتظار کرتے رہے “۔
دوسری غیرسرکاری تنظیم الارم فون نے اپنے ٹوئٹ میں سوال اٹھایا کہ”بحر اوقیانوس میں کشتی کو حادثہ ! ہمیں معلوم ہوا کہ کشتی حادثے میں ڈوبنے والے 59 افراد میں سے صرف 24 افراد کو مراکشی بحریہ نے بچایا، کم از کم 35 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ پہلے کسی نے مداخلت کیوں نہیں کی؟“۔
الارم فون نے ٹویٹ کیا: "بحر اوقیانوس میں جہاز کا ملبہ! ہمیں معلوم ہوا کہ جہاز کے تباہ ہونے والے 59 افراد میں سے صرف 24 افراد کو مراکشی بحریہ نے روکا تھا۔ کم از کم 35 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ پہلے کسی نے مداخلت کیوں نہیں کی؟”
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے 14 جون کویونان کے جنوبی ساحل کے قریب 750 تارکین وطن سے بھری ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں سمیت 500 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ جاں بحق ہوچکے ہیں۔واقعے میں اب تک 80 افرادکی لاشیں مل چکی ہیں۔اندازوں کے مطابق کشتی میں خواتین اور بچوں سمیت کم ازکم 300 پاکستانی سوار تھے جن میں سے 12 کو بچالیا گیا۔









