نوعمر بچے کی عریاں تصاویر کا اسکینڈل: بی بی سی نے اپنے پریزینٹر کو نوکری سے معطل کردیا

بی بی سی کے مرد رکن نے ایک نوجوان کو جنسی تصاویر بنوانے کے لیے ہزاروں پاؤنڈز ادا کیے تھے۔

برطانیہ کے نشریاتی ادارے بی بی سی نے اتوار کو عملے کے ایک مرد رکن( پریزینٹر ) کو اس الزام کے بعد معطل کر دیا کہ اس نے ایک 17 سالہ نوجوان لڑکے کو جنسی طور پر واضح تصویریں بنوانے کے لیے ہزاروں پاؤنڈ ادا کیے تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے (بی بی سی) کو مرد رکن سے متعلق مئی میں بھی کئی شکایات موصول ہوئی تھیں ، تاہم جمعرات کے روز پریزینٹر کے خلاف اس مرتبہ مختلف نوعیت کے الزامات سامنے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

روس میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے پر ایک شخص گرفتار

امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں فائرنگ سے 4 افراد ہلاک، 2 زخمی

بی بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ سنگین نوعیت کے الزامات کےبعد مرد رکن کے حوالے سے پولیس کا آگاہ کردیا گیا ہے۔

بی بی سی نیوز نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ "یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے تاہم بی بی سی حقائق کو قائم رکھنے کے لیے جلد سے جلد معاملے کو نمٹانا چاہتا ہے ، جس کے لیے مناسب طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے۔

بی بی سی نیوز نے اس بات کی تصدیق کی ہے اس نے عملے کے  ایک مرد رکن کو معطل کردیا ہے۔

تفصیلات بتائے بغیر بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ حقائق تک پہنچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان معاملات سے منصفانہ طریقے سے نمٹا جائے”۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ادارے "دی سن اخبار” نے سب سے پہلے الزامات کی  اطلاع دی تھی۔ دی سن اخبار نے نوجوان کی والدہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ "نامعلوم مرد پیش کنندہ نے نوجوان کو تصاویر کے لیے تین سال کے دوران 35 ہزار پاؤنڈ تقریبا 45 ہزار ڈالر سے زائد کی رقم ادا کی تھی۔

والدہ نے دی سن اخبار کو بتایا کہ اس کے نوجوان بیٹے نے کوکین کی عادت کو پورا کرنے کےلیے فنڈ کے طور پر دی گئی رقم کو استعمال کیا۔

متاثرہ لڑکے کے خاندان نے بی بی سی کو 19 مئی کو شکایت کی تھی ، لیکن پیش کنندہ کو فوری طور پر آف ایئر نہیں کیا گیا۔ دی سن اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ خاندان نے اپنی کہانی چھاپنے کے لیے نہ تو کوئی ادائیگی کی تھی اور نہ کوئی درخواست کی تھی۔

ثقافت کی سکریٹری لوسی فریزر واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے "اتوار کے روز براڈکاسٹر (بی بی سی) کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی سے ان الزامات کے بارے میں فوری بات چیت کی۔

لوسی فریزر نے اپنے ٹوئٹر ہیندل پر پہنچتے ہوئے لکھا ہے کہ "ٹم ڈیوی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بی بی سی تیزی سے اور غیرجانبدار اور حساس طریقے سے تحقیقات کر رہا ہے۔”

ثقافت کی سکریٹری لوسی فریزر کا کہنا ہے کہ "الزامات کی نوعیت کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ بی بی سی کو اپنی تحقیقات کرنے، حقائق کو سامنے لانے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔”

برطانوی نشریاتی ادارے نے کہا کہ "اگر ہماری کوششوں کا کوئی جواب نہیں ملتا ہے یا مزید کوئی رابطہ نہیں ہوتا ہے جو مزید پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری تحقیقات رک جائیں گی”۔

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی کا کہنا ہے کہ "اگر کوئی نئی معلومات سامنے آئیں تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اگر پیش کنندہ قصوروار پایا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بی بی سی کے ایک ہائی پروفائل پریزینٹر کا کیریئر ختم ہو جائے گا۔

متعلقہ تحاریر