بھارتی سپریم کورٹ میں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کی درخواست کو نمبر لگ گیا

چار سال بعد بھارتی سپریم کورٹ نے درخواست کو نمبر لگا دیا، بھارت کے حاضر سروس بیوروکریٹ شاہ فیصل نے 28 اگست 2019 کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں دائر کی تھی۔

مودی سرکار کو بڑی ہزیمت کا سامنا ، چار سال بعد سپریم کورٹ آف انڈیا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کی درخواست کو بلاآخر شیڈول نمبر دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کی درخواست کو رجسٹرار سپریم کورٹ آف انڈیا نے نمبر لگا دیا ہے۔

مزید تفصیل کے مطابق بھارتی بیوروکریٹ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ کا 5 اگست 2019 کا اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا تھا۔

سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس نے درخواست کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے 5 ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا ہے۔ بینچ منگل سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے 

روس میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے پر ایک شخص گرفتار

امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں فائرنگ سے 4 افراد ہلاک، 2 زخمی

مودی سرکار کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے آرٹیکل 370 امپوز کیا گیا تھا۔ بھارتی بیوروکریٹ کی جانب سے آرٹیکل 370 کے اقدام کو غیرآئینی قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

درخواست بھارت کے حاضر سروس بیوروکریٹ شاہ فیصل نے 28 اگست 2019 کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں دائر کی تھی۔ چار سال تک ججز کی ریٹائرمنٹ اور سماعت کی معذرت کی بنیاد پر کیس التوا کا شکار تھا۔ اس دوران کئی مرتبہ بینچ بنتا اور ٹوٹتا رہا۔

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اتنے اہم اور حساس مسئلے پر چار سال بعد سماعت کا شروع ہونا سپریم کورٹ آف انڈیا کے انصاف کے منہ پر طماچہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کی جو خصوصی حیثیت ہے اس کا بحال رہنا وہاں کی عوام کے بنیادی حقوق کا خاصہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ دیر آید درست آید کے مصداق سپریم کورٹ آف انڈیا کا اقدام قابل تحسین ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کشمیر کی تاریخی حیثیت کو دیکھتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کردے گی۔

متعلقہ تحاریر