برنی سینڈرز خود پر بننے والے میمز سے محظوظ

جو بائیڈن کی صدارتی حلف برداری کے تقریب کے موقع پر لی گئی برنی سینڈرز کی تصویر دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نئے صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے موقع پر مٹنز پہنے ہوئے نظر آئے جس کے بعد سوشل میڈیا پر خود مزاحیہ میمز بنے لیکن برنی سینڈرز اس پر ناراض نہیں ہوئے۔

مٹنز ایک خاص قسم کا دستانہ ہوتا ہے جس میں ہاتھ کی تمام انگلیوں کے لیے الگ الگ جگہ نہیں بنائی جاتی۔ مٹنز میں چاروں انگلیاں ایک ہی جگہ موجود ہوتی ہیں اور صرف انگوٹھے کے لیے الگ جگہ دی جاتی ہے۔

برنی سینڈرز جو بائیڈن کی صدارتی حلف برداری کی تقریب میں نیلے رنگ کا ماسک اور ہاتھوں پر مٹنز پہنے ہوئے فولڈ ایبل کرسی پر الگ تھلگ بیٹھے۔ اس موقع پر لی گئی برنی سینڈرز کی تصویر ایک میم میں تبدیل ہوگئی جو دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی۔

سوشل میڈیا صارفین نے برنی سینڈرز کی تصویر کا مختلف فلمی مناظر، تاریخی واقعات اور دیگر جگہوں پر استعمال کر کے مزاحیہ میمز بنائے۔ تاہم توقعات کے برعکس امریکی سینیٹر برنی سینڈرز ناراض ہونے کے بجائے میمز سے لطف اندوز ہوئے۔

برنی سینڈرز نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا تھا کہ حلف برداری کی تقریب کے دوران انہوں نے حفاظتی طور پر اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کو ہلکے پھلکے گرم رکھنے کے لیے مٹنز پہنے تھے۔

انہوں نے ناراض ہونے کے بجائے مشورہ دیا کہ اگر ان کی میمز اتنی زیادہ پسند کی جارہی ہیں تو ان میمز کی نمائش کر کے لاکھوں ڈالرز جمع کیے جاسکتے ہیں جنہیں ضرورت مند شہریوں کی خیرات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں پہلی مرتبہ خواجہ سراء سینیٹر منتخب

امریکی سینیٹر کو یہ مٹنز ورمونٹ کے ایک استاد جین ایلس نے دو سال قبل تحفے میں دیئے تھے جو اُون سے بُنے گئے ہیں۔

دوسری جانب برنی سینڈرز کے انتخابی اسٹور نے ایسی ٹی شرٹس فروخت کی ہیں جن میں سینیٹر کی یہی تصویر بنائی گئی ہے۔

شرٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام رقم ورمونٹ میں کھانے کے لیے خیرات میں دی گئی۔

متعلقہ تحاریر