سعودی عرب کے کعبہ سے متعلق اہم اقدام
سعودی حکام کے مطابق حجر اسود کی نئی تصاویر 49 ہزار میگا پکسل کی حد تک باریک بین ہیں۔

سعودی عرب بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنی نئی شناخت بنارہا ہے۔ سعودی حکومت نے جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے مسجد الحرام میں موجود حجرِ اسود کی واضح ترین تصاویر جاری کردی ہیں۔ پچھلے دنوں مسجد نبوی اور مسجد الحرام میں درجنوں خواتین کو تعینات کیا گیا تھا۔
قدامت پسند سعودی معاشرے نے جدید دور میں اپنی نئی پہچان بنانا شروع کردی ہے۔ سعودی حکومت نے جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد لے کر مسجد الحرام میں موجود حجرِ اسود کی نئی تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ تصاویر مکہ مکرمہ کے ادارہ امور حرمین شریفین کے شعبہ انجینئرنگ اسٹڈیز نے لی ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حجر اسود کی تصاویر 49 ہزار میگا پکسل کی حد تک باریک بین ہیں۔ اس کی تیاری کے لیے فوکس اسٹیک پینوراما کی تکینک کا استعمال کرتے ہوئے 1050 پینوراما تصاویر لی گئیں۔ 7 گھنٹوں کی عکس بندی کے بعد تمام تصاویر کو جوڑنے میں 50 گھنٹوں سے زیادہ وقت صرف ہوا ہے۔
Technical Information
Shooting Time: 7 hours.
Number of Photos: 1050 Fox Stack Panorama.
Image Resolution: 49,000 Mega Pixels.
Processing Time: More Than 50 Working Hours. https://t.co/E9xktWDGJr pic.twitter.com/MOUWWJZbHA— 𝗛𝗮𝗿𝗮𝗺𝗮𝗶𝗻 (@HaramainInfo) May 3, 2021
یہ بھی پڑھیے
کرپشن کے الزامات پر سعودی عرب کے سفیر معطل، عملہ وطن طلب
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حجراسود کی ایسی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی ہیں جس میں فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کو استعمال کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پچھلے دنوں سعودی انتظامیہ نے خواتین افسران پر مشتمل خصوصی دستے کو زائرین کی مدد کے لیے تعینات کیا تھا۔
Big change.First time Saudi female workers serving in Masjid Al Haram during this Ramadan pic.twitter.com/aAg0KaPmJx
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) May 3, 2021
اس سے پہلے سعودی حکومت نے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے مسجدالحرام میں خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جاچکا ہے۔
A Saudi female police officer in Mecca supervising pilgrims. via @ryma080 Amazing change for Saudi society! pic.twitter.com/ROHJF7lOr6
— Ali Shihabi علي الشهابي (@aliShihabi) April 19, 2021
واضح رہے کہ سعودی وزارت دفاع کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے فروری سے خواتین کے سعودی افواج میں بھرتی کے سلسلے کا آغاز بھی کردیا گیا تھا۔ ان تمام تر اقدامات کی روشنی میں اگر یہ کہا جائے کہ سعودی عرب بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنی نئی شناخت بنارہا ہے تو غلط نہ ہوگا۔









